🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1500 ترقیم شاملہ: -- 3766
وَحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا؟ "، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ "، قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ "، قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی، میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے اپنے کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں؟ اس نے عرض کی: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ ان میں کہاں سے آ گئے؟ اس نے عرض کی: ممکن ہے اسے (ننھیال یا ددھیال کی) کسی رگ (جین) نے (اپنی طرف) کھینچ لیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کو بھی ممکن ہے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3766]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ رنگ کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی خاکستری (مٹیالا) کا بھی ہے؟ اس نے کہا: ان میں خاکستری بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان میں کہاں سے آ گئے؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بھی ممکن ہے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1500 ترقیم شاملہ: -- 3767
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ جَمِيعًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ.
معمر اور ابن ابی ذئب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ابن عیینہ کے ہم معنی حدیث روایت کی، البتہ معمر کی حدیث میں ہے، اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے، اور وہ اس وقت اسے اپنا نہ ماننے کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس بچے کو اپنا نہ ماننے کی اجازت نہ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3767]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت چار اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن معمر، زہری سے اس طرح بیان کرتے ہیں، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے۔ اور وہ اس طرح اس کے اپنے ہونے کی نفی کی طرف اشارہ اور تعریض کر رہا تھا، اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنے ہونے کی نفی یا انکار کی اجازت نہیں دی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1500 ترقیم شاملہ: -- 3768
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا؟ "، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنَّى هُوَ "، قَالَ: لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ ".
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے، اور میں نے اس (کو اپنانے) سے انکار کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں؟ اس نے عرض کی: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کہاں سے آیا؟ کہنے لگا: اللہ کے رسول! ممکن ہے اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اور یہ (بچہ) شاید اسے بھی اس کی کسی رگ نے (اپنی طرف) کھینچ لیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3768]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ فام بچہ جنا ہے اور میں اسے انوکھا محسوس کرتا ہوں یا مجھے اس پر حیرت و تعجب ہے (میں اجنبیت اور بیگانگی محسوس کرتا ہوں)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے جواب دیا: سرخ رنگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی مٹیالا بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: وہ کہاں سے آ گیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شاید اسے اس کی کسی اصل نے کھینچ لیا ہو۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اس کو بھی شاید اس کے کسی اصل (دادا، نانا) نے کھینچ لیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1500 ترقیم شاملہ: -- 3769
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے۔۔ ان (سفیان، معمر، ابن ابی ذئب اور یونس) کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3769]
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت پہنچی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں