صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
70. باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم إلى جميع الناس ونسخ الملل بملته:
باب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 154 ترقیم شاملہ: -- 387
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ، وَاتَّبَعَهُ، وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى، وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی، انہوں نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے شعبی سے سوال کیا اور کہا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے، پھر اس سے شادی کر لے (یہ) کہتے ہیں کہ وہ اپنی قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے۔ شعبی نے کہا: مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا: اہل کتاب کا آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے دور) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا: یہ حدیث بلا مشقت لے لو۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 387]
صالح ہمدانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ایک خراسانی کو دیکھا اس نے شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا: اے ابو عمرو! ہماری طرف اہلِ خراساں یہ کہتے ہیں: کہ ایک انسان اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اگر اس سے شادی کر لے، تو وہ اس حاجی کی طرح ہے جو اپنی قربانی کے اونٹ پر سوار ہو جاتا ہے۔ تو شعبی رحمہ اللہ نے جواب دیا: مجھے ابو بردہ بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ نے اپنے باپ ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کو دہرا اجر دیا جائے گا، ایک اہلِ کتاب کا فرد، جو اپنے نبی پر ایمان لایا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ پا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور تصدیق کی، تو اس کو دو اجر ملیں گے۔ دوسرا غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اللہ کا جو اس پر حق ہے اس کو ادا کرتا ہے، اور اپنے آقا کے حق کو بھی ادا کرتا ہے، تو اس کو دو اجر ملیں گے۔ تیسرا وہ آدمی جس کی کوئی لونڈی ہے، تو وہ اس کو خوراک دیتا ہے اور بہترین غذا مہیا کرتا ہے، پھر اس کو ادب سکھلاتا ہے اور خوب سکھاتا ہے، پھر اس کو آزاد کر کے شادی کر لیتا ہے، اس کو بھی دہرا صلہ ملے گا۔“ پھر شعبی رحمہ اللہ نے خراسانی سے کہا: اس حدیث کو بلا محنت و مشقت اٹھائے لے لو، پہلے آدمی اس سے چھوٹی حدیث کے حصول کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 154
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العلم، باب: تعليم الرجل امته واهله برقم (97) وفي العتق، باب: العبد اذا احسن عبادة ربه ونصح سيده برقم (2547) مختصراً - وفي الجهاد، باب: فضل من اسلم من اهل الكتابين برقم (3011) وفى احادیث الانبياء، باب: قول الله ﴿ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ﴾ برقم (3446) وفى النكاح، باب: اتخاذ السراري برقم (5083) والترمذى فى ((جامعه)) فی النکاح، باب: ما جاء في الفضل في ذلك وقال: حديث أبي موسی حديث حسن صحيح برقم (1116) والنسائي في (المجتبي)) 7/ في النكاح، باب: الرجل یعتق جاريته ثم يتزوجها۔ وابن ماجه في ((سننه)) في النكاح، باب: الرجل يعتق امته ثم يتزوجها برقم (1956) انظر ((التحفة)) برقم (9107)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 154 ترقیم شاملہ: -- 388
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبدہ بن سلیمان، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 388]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 154
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (385)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 154 ترقیم شاملہ: -- 3499
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، لَهُ أَجْرَانِ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں، جو اپنی لونڈی کو آزاد کرتا ہے، پھر اس سے شادی کرتا ہے، فرمایا: ”اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ (آزاد کرنے کا اجر اور اس کے بعد شادی کے ذریعے اسے عزت کا مقام دینے کا اجر)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 3499]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرتا ہے فرمایا: ”اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 3499]
ترقیم فوادعبدالباقی: 154
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة