صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب الارض تمنح:
باب: زمین ہبہ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3957
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَانْتَهَرَهُ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو (بن دینار) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا: ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو، کہا: انہوں (طاوس) نے انہیں ڈانٹا اور کہا: اللہ کی قسم: اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام (کبھی) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتاً دے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے۔“ (اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3957]
امام مجاہد نے، امام طاؤس سے کہا، رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے کے ہاں میرے ساتھ چلو، اس سے اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت سنو! تو طاؤس نے اسے جھڑکا، کہا، اللہ کی قسم! اگر میں یہ جان لوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں یہ کام نہ کروں، لیکن مجھے اس شخصیت (ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ) نے جو ان سب سے زیادہ اس مسئلہ سے آگاہ ہیں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو زمین کاشت کے لیے دے دے، تو اس کے لیے بہتر ہے کہ اس سے متعین مقدار میں پیداوار لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3958
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو، أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا قَالَ: " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا "،
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ (نقدی کے عوض) بٹائی پر زمین دیتے تھے۔ عمرو نے کہا: میں نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں (تو بہتر ہے) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، آپ نے تو صرف فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (زمین) عاریتاً دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے۔“ (بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین، وسیع منفعت حاصل ہو گی)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3958]
امام طاؤس مخابرہ پر زمین دیتے تھے، تو انہیں عمرو بن دینار نے کہا، اے ابو عبدالرحمٰن! اے کاش! آپ مخابرہ کو ترک کر دیں، کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، اے عمرو! مجھے اس مسئلہ کو سب سے بہتر طور پر جاننے والے یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ فرمایا تھا، ”تم میں سے کوئی پیداوار اٹھانے کے لیے اپنے بھائی کو دے دے تو اس کے لیے، اس پر معین مقدار میں پیداوار لینے سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3959
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ایوب، سفیان، ابن جریج اور شعبہ سب نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3959]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی سندوں سے عمرو بن دینار کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3960
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ، وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ: الْمُحَاقَلَةُ.
معمر نے ابن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا، یعنی متعین مقدار میں وصول کرے۔“ کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہی حقل ہے اور انصار کی زبان میں محاقلہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3960]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی زمین اپنے بھائی کو پیداوار اٹھانے کے لیے دینا، تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا (معین مقدار میں) حصہ لو۔“ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، یہی صورت حقل ہے، انصار اسے محاقلہ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3961
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَإِنَّهُ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ ".
عبدالملک بن زید نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس کی زمین ہو، وہ اگر اسے اپنے بھائی کو عاریتاً دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3961]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہے، تو اس کا اپنے بھائی کو پیداوار حاصل کرنے کے لیے دینا بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة