صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم بيع فضل الماء الذي يكون بالفلاة ويحتاج إليه لرعي الكلإ وتحريم منع بذله وتحريم بيع ضراب الفحل:
باب: جو پانی جنگل میں ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا حرام ہے جب لوگوں کو اس کو احتیاج ہو گھاس چرانے میں اور اس کا روکنا منع ہے اور نر کدانے کی اجرت لینا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4006
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زائد پانی کو نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس روکی جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4006]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے زائد پانی کو گھاس کی حفاظت و بندش کی خاطر نہ روکا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4006]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4007
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلَأَ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زائد پانی نہ روکو کہ اس کے ذریعے سے تم گھاس روک دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4007]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے زائد پانی نہ روکو، جس کا نتیجہ یہ نکلے کہ تم اس طرح گھاس کو روک سکو، (وہ تمہارے لیے محفوظ ہو جائے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4007]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4008
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهِ الْكَلَأُ ".
ہلال بن اسامہ نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زائد پانی کو فروخت نہ کیا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس کو فروخت کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4008]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے فالتو پانی نہ بیچا جائے کہ اس سے گھاس کو فروخت کیا جا سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4008]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة