صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الامر بقتل الكلاب وبيان نسخه وبيان تحريم اقتنائها إلا لصيد او زرع او ماشية ونحو ذلك.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 1573 ترقیم شاملہ: -- 4021
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ "، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ "، ثُمَّ " رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَكَلْبِ الْغَنَمِ ".
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”ان لوگوں کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟“ بعد میں آپ نے شکاری کتے اور بکریوں (کی حفاظت) والے کتے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4021]
حضرت ابن المغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کتوں سے کیا غرض ہے، ان کا پیچھا کیوں کرتے ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کے محافظ کتے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1573 ترقیم شاملہ: -- 4022
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَالصَّيْدِ، وَالزَّرْعِ.
یحییٰ بن حبیب نے کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی۔ محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث سنائی۔ محمد بن ولید نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی۔ اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں نضر نے خبر دی۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی، (خالد بن حارث، یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر، نضر اور وہب بن جریر) سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا: یحییٰ سے روایت ہے۔ (اور آگے یہ کہا:) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کی رکھوالی، شکار اور کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4022]
امام صاحب چھ اساتذہ سے شعبہ کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، اور ابن حاتم کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے محافظ، شکاری اور کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کی رخصت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة