صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب النهي عن بيع الورق بالذهب دينا:
باب: چاندی کو بیع سونے کے بدلے بطور قرض ممنوع ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1589 ترقیم شاملہ: -- 4071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ: " بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَى الْحَجِّ، فَجَاءَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي، فَقُلْتُ: هَذَا أَمْرٌ لَا يَصْلُحُ، قَالَ: قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ: مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا "، وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عمرو (بن دینار) نے ابومنہال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے ایک شریک نے موسم (حج کے موسم) تک یا حج تک چاندی ادھار فروخت کی، وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا تو میں نے کہا: یہ معاملہ درست نہیں۔ اس نے کہا: میں نے وہ بازار میں فروخت کی ہے اور اسے کسی نے میرے سامنے ناقابل قبول قرار نہیں دیا۔ اس پر میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا: ”جو دست بدست ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہے وہ سود ہے۔“ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کا کاروبار مجھ سے وسیع ہے، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مانند کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4071]
ابو منہال بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک شریک (ساجھی) نے، چاندی حج کے موسم یا حج تک ادھار فروخت کی، پھر آ کر مجھے اس کی اطلاع دی، تو میں نے کہا، یہ معاملہ درست نہیں ہے، اس نے کہا، میں نے اسے بازار میں فروخت کیا، تو اس پر کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا، تو میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا، اور ان سے، اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو ہم اس قسم کی خرید و فروخت کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نقد بنقد ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو وہ سود ہے۔“ اور تم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاؤ، کیونکہ ان کا کاروبار مجھ سے وسیع تھا، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی اس طرح بتایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1589 ترقیم شاملہ: -- 4072
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ، فَسَأَلْتُ زَيْدًا ، فَقَالَ: سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ قَالَا: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا ".
حبیب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابومنہال سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: براء سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، پھر دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4072]
ابو منہال بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے کرنسی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے کہا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھو، کیونکہ وہ زیادہ جانتے ہیں، پھر ان دونوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی سونے سے ادھار، بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة