صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
74. باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 162 ترقیم شاملہ: -- 411
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ، طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، قَالَ: فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الأَنْبِيَاءُ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ، إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا سورة مريم آية 57، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ، قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ، فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ".
شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا لمبا چوپایہ ہے، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اپنا سم وہاں رکھتا ہے جہاں اس کی نظر کی آخری حد ہے۔“ فرمایا: ”میں اس پر سوار ہوا حتی کہ بیت المقدس آیا۔“ فرمایا: ”میں نے اس کو اسی حلقے (کنڈے) سے باندھ لیا جس کے ساتھ انبیاء علیہم السلام اپنی سواریاں باندھتے تھے۔“ فرمایا: ”پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر (وہاں سے) نکلا تو جبریل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا لے آئے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ تو جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے، پھر وہ ہمیں لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے۔“ جبریل نے (دروازہ) کھولنے کو کہا تو پوچھا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”اور کیا انہیں بلوایا گیا تھا؟“ کہا: ”بلوایا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا تو میں اچانک آدم علیہ السلام کے سامنے تھا، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی، پھر وہ ہمیں اوپر دوسرے آسمان کی طرف لے گئے، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا انہیں بلوایا گیا تھا؟“ کہا: ”بلوایا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، اب میں دو خالہ زاد بھائیوں، عیسیٰ ابن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے سامنے تھا، دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی، پھر جبریل ہمیں اوپر تیسرے آسمان تک لے گئے، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کے پاس پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”(ہاں) بھیجا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا، وہ ایسے تھے کہ (انسانوں کا) آدھا حسن انہیں عطا کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر ہمیں اوپر چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تو کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”ان کے پاس پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں، بھیجا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تب میرے سامنے ادریس علیہ السلام تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» ”ہم نے اسے (ادریس علیہ السلام کو) بلند مقام تک رفعت عطا کی۔“ پھر ہمیں اوپر پانچویں آسمان پر لے جایا گیا تو جبریل نے دروازہ کھلوایا، کہا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پوچھا گیا: ”ان کے لیے پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں بھیجا گیا تھا۔“ چنانچہ ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تب میری ملاقات ہارون علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی، پھر ہمیں چھٹے آسمان پر لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا انہیں پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں، بھیجا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تب میری ملاقات موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر ہمیں اوپر ساتویں آسمان پر لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا۔ کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”(ہاں) بھیجا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے تھا۔ انہوں نے بیت معمور سے ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ اس (بیت معمور) میں ہر روز ستر ہزار فرشتے (عبادت کے لیے) داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی دوبارہ اس میں واپس (آکر داخل) نہیں ہو سکتے، پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ (آخری سرحد پر واقع بیری کے درخت) کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح ہیں، جب اللہ کے حکم سے جس چیز نے اسے ڈھانپنا تھا ڈھانپ لیا، تو وہ بدل گئی، اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی مخلوق نہیں جو اس کے حسن کا وصف بیان کر سکے، پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی جو کی، اور مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں، میں اتر کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: ”آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”پچاس نمازیں۔“ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت (کے لوگوں) کے پاس اس کی طاقت نہ ہو گی، میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں اور پرکھ چکا ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”تو میں واپس اپنے رب کے پاس گیا اور عرض کی: اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا اور کہا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ کی امت کے پاس (اتنی نمازیں پڑھنے کی) طاقت نہ ہو گی۔ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے۔“ آپ نے فرمایا: ”میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں اور (اجر میں) ہر نماز کے لیے دس ہیں، (اس طرح) یہ پچاس نمازیں ہیں اور جو کوئی ایک نیکی کا ارادہ کرے گا لیکن عمل نہ کرے گا، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر وہ (اس ارادے پر) عمل کرے گا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جو کوئی ایک برائی کا ارادہ کرے گا اور (وہ برائی) کرے گا نہیں تو کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اسے کر لے گا تو ایک برائی لکھی جائے گی۔“ آپ نے فرمایا: ”میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس سے (مزید) تخفیف کی درخواست کریں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: میں اپنے رب کے پاس (بار بار) واپس کیا حتی کہ میں اس سے شرمندہ ہو گیا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 411]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”میرے پاس براق لایا گیا (وہ ایک سفید رنگ کا لمبا چوپایہ تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے کم (چھوٹا)، اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر پہنچتی) میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچا اور اس کو اس حلقہ (کنڈے) سے باندھ دیا جس سے انبیاء علیہم السلام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں نکلا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک شراب کا برتن اور دوسرا دودھ کا برتن لایا۔ میں نے دودھ کا انتخاب کیا (دودھ کو پسند کیا) تو جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کو اختیار کیا۔ پھر وہ ہمیں لے کر آسمان کی طرف چڑھا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا، تو پوچھا گیا: تو کون ہے؟ جواب دیا: جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سوال ہوا: اسے بلوایا گیا ہے؟ کہا: بلایا گیا ہے۔ اس پر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو میں نے اچانک آدم علیہ السلام کو پایا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان پر لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا، تو پوچھا گیا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا جبریل ہوں۔ سوال ہوا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انھیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا: بلایا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو اچانک میں نے دو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور یحیٰ بن زکریا علیہ السلام کو پایا (اللہ ان دونوں پر رحمتیں برسائے) دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور دعائے خیر دی۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا: جبریل ہوں! سوال ہوا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انھیں طلب کیا گیا ہے؟ کہا، انھیں بلایا گیا ہے، تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میری ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی۔ انھیں حسن کا وافر حصہ ملا ہے۔ انھوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تو سوال ہوا آپ کون ہیں؟ کہا: جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: اور کیا انھیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا: انھیں بلایا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا اور میری ملاقات ادریس علیہ السلام سے ہوئی، انھوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر دی۔ اللہ کا فرمان ہے: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» (مریم: 57) پھر ہمیں پانچویں آسمان پر لے جایا گیا، تو جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: آپ کون ہیں؟ کہا: جبریل ہوں۔ سوال ہوا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انھیں بلوایا گیا ہے؟ کہا: انھیں بلوایا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میری ملاقات ہارون علیہ السلام سے ہوئی انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان پر چڑھایا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ کہا: جبریل۔ سوال ہوا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا: کیا انھیں بلوایا گیا ہے؟ کہا: جی ہاں! انھیں بلوایا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو میری ملاقات موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انھوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر وہ ساتویں آسمان پر چڑھ گئے۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا، تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ کہا جبریل۔ سوال کیا گیا: اور تیرے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا: کیا انھیں پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہا انھیں پیغام بھیجا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو میں ابراہیم علیہ السلام کو پاتا ہوں۔ انھوں نے اپنی پشت کی ٹیک بیت المعمور سے لگائی ہوئی ہے، اور وہ ایسا گھر ہے کہ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر ان کی باری نہیں آئے گی۔ پھر مجھے جبریل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ (آخری سرحد پر واقع بیری کا درخت) کے پاس لے گئے۔ اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں اور بیر مٹکوں کی طرح ہیں۔ تو جب اللہ کے حکم سے جس چیز نے اسے ڈھانپا، ڈھانپنا تو اس میں ایسی تبدیلی پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی اس کے حسن کو بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو چاہا وحی کی اور مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف اترا تو انھوں نے پوچھا: تیرے رب نے تیری امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ اور اس سے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ تیری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، میں بنو اسرائیل کو آزما چکا ہوں اور ان کو جانچ چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تو میں لوٹ کر اپنے رب کے پاس گیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میری امت کے لیے تخفیف فرما، اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا اور انھیں بتایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔ انھوں نے کہا: تیری امت اتنی نمازیں نہیں پڑھ سکے گی، اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ہر دن، رات میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز دس کے برابر ہے، اس طرح یہ پچاس نمازیں ہیں، اور جو انسان کسی نیکی کی نیت کر کے، کرے گا نہیں، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی، اور اگر وہ کرے گا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جو برائی کا ارادہ کرے گا اور اسے کرے گا نہیں تو کچھ نہیں لکھا جائے گا، اور اگر کر گزرے گا تو ایک برائی لکھی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اتر کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انھیں خبر دی تو انھوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ اور اس سے تخفیف کی درخواست کرو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: میں بار بار اپنے رب کے پاس گیا ہوں حتیٰ کہ اس سے شرما گیا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (345)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 162 ترقیم شاملہ: -- 412
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ، فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي، ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُنْزِلْتُ ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس (فرشتے) آئے اور مجھے زمزم کے پاس لے گئے، میرا سینہ چاک کیا گیا، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر مجھے (واپس اپنی جگہ) اتار دیا گیا۔“ (یہ معراج سے فوراً پہلے کا واقعہ ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 412]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتے آئے اور مجھے زمزم کے پاس لے گئے، میرا سینہ چاک کیا گیا، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر مجھے چھوڑ دیا گیا یعنی جس جگہ سے اٹھایا تھا وہیں چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (413)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 162 ترقیم شاملہ: -- 413
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ: وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ "
(سلیمان بن مغیرہ کے بجائے) حماد بن سلمہ نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے جبکہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آپ کو پکڑا، نیچے لٹایا، آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکال لیا، پھر اس سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا: ”یہ آپ (کے دل میں) سے شیطان کا حصہ تھا۔“ پھر اس (دل) کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ، یعنی آپ کی رضاعی ماں کے پاس آئے اور کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔“ (یہ سن کر لوگ دوڑے) تو آپ کے سامنے سے آتے ہوئے پایا، آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا۔“ (یہ بچپن کا شق صدر ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 413]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب کہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر گرایا اور آپ کا سینہ چاک کر کے دل نکال لیا، پھر اس سے جما ہوا خون نکالا اور کہا: یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اس کو سونے کے تھال (طشت) میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو (دل کو) جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، اور بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی انا (رضاعی ماں) کے پاس آئے اور کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے (یہ سن کر لوگ آئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے ملے اور آپ کا رنگ (خوف یا گھبراہٹ کی بنا پر) بدل چکا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینہ پر دیکھا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 413]
ترقیم فوادعبدالباقی: 162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (346)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 162 ترقیم شاملہ: -- 414
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُنَا، عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، " أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ، وَزَادَ وَنَقَصَ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی (کہا): میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر (فرشتے) آئے، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ شریک نے ”واقعہ اسراء“ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور (کچھ میں) کمی بیشی کی۔ (امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری روایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 414]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسرا کی رات کے بارے میں بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی مسجد سے اسرا کروایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس تین اشخاص (فرشتے) آئے اور آپ مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ شریک رحمہ اللہ نے واقعہ اسرا، ثابت بنانی رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا، اور کمی بیشی بھی کی۔ (اس لیے امام مسلم رحمہ اللہ نے پوری روایت نقل نہیں کی) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 414]
ترقیم فوادعبدالباقی: 162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في ((المناقب)) باب: كيف كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم عينه ولا ينام قلبه برقم (3570) وفي التوحيد، باب: ما جاء في قوله عز وجل: ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (7517) انظر ((التحفة)) برقم (909)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة