صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ثبوت القصاص في القتل بالحجر وغيره من المحددات والمثقلات وقتل الرجل بالمراة:
باب: پتھر وغیرہ بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص لازم ہو گا اسی طرح مرد کو عورت کے بدلے قتل کریں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 1672 ترقیم شاملہ: -- 4361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ "،
ابن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات (حاصل کرنے) کی خاطر مار ڈالا، اس نے اسے پتھر سے قتل کیا، کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور اس میں زندگی کی رمق موجود تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک یہودی کا نام لیتے ہوئے) اس سے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟“ اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دوسری بار (دوسرا نام لیتے ہوئے) پوچھا: تو اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (تیسرا نام لیتے ہوئے) تیسری بار پوچھا: تو اس نے کہا: ہاں، اور اپنے سر سے اشارہ کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ملوث یہودی کو اس کے قرار کے بعد، حدیث: 4365) دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4361]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی خاطر ایک لڑکی کو مار ڈالا، اسے پتھر سے مارا، اس لڑکی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، کیونکہ ابھی اس میں زندگی کے آثار تھے، جان نہیں نکلی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارے سے بتایا، نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ (کسی اور کے بارے میں) پوچھا، تو اس نے سر سے اشارہ کیا، کہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار سوال کیا، تو اس نے سر کے اشارے سے کہا، ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پتھروں کے درمیان (سر رکھ کر) قتل کروا دیا (کیونکہ اس نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1672 ترقیم شاملہ: -- 4362
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
خالد بن حارث اور ابن ادریس دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور ابن ادریس کی حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلوا ڈالا۔ (اس طرح بھاری پتھر مارا گیا کہ اس کا سر کچلا گیا۔) [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4362]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے، شعبہ کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، ابن ادریس کی حدیث میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا، کوٹ ڈالا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1672 ترقیم شاملہ: -- 4363
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا، ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ "،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود کے ایک آدمی نے انصار کی ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر قتل کر دیا، پھر اسے کنویں میں پھینک دیا، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، اسے پکڑ لیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اسے مر جانے تک پتھر مارنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے پتھر مارے گئے حتی کہ وہ مر گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4363]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی آدمی نے ایک انصاری لڑکی کو زیور کی خاطر قتل کر ڈالا، پھر اسے کنویں میں پھینک دیا، اور اس کا سر پتھر سے کچل دیا، اس کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا، حتی کہ وہ مر جائے، تو اس کے مرنے تک اس کو پتھر مارے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4363]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1672 ترقیم شاملہ: -- 4364
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن جریج نے کہا: مجھے معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4364]
ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1672 ترقیم شاملہ: -- 4365
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ؟ فُلَانٌ فُلَانٌ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ".
قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا ملا تو لوگوں نے اس سے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ حتی کہ انہوں نے خاص (اسی) یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ یہودی کو پکڑا گیا تو اس نے اعتراف کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4365]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اس حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کوٹ ڈالا گیا تھا، تو لوگوں نے اس سے پوچھا، تیرے ساتھ یہ حرکت کس نے کی؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ حتی کہ لوگوں نے ایک یہودی کا نام لیا، تو اس نے سر کے اشارے سے تصدیق کی، یہودی کو پکڑ لیا گیا، تو اس نے اقرار کر لیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا سر پتھروں سے کچلنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة