🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب معنى قول الله عز وجل: {ولقد رآه نزلة اخرى} وهل راى النبي صلى الله عليه وسلم ربه ليلة الإسراء:
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 439
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَت: يَا أَبَا عَائِشَةَ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ، سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا، غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ، سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ "، فَقَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ سورة الشورى آية 51؟ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، وَاللَّهُ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67، قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَة، وَاللَّهُ يَقُولُ: قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65،
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابوعائشہ! (یہ مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں، جس نے ان میں سے کوئی بات کہی، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پوچھا: وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ انہوں نے کہا: میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو (یہ بات سنتے ہی) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے (بات کرنے کا) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» بے شک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا (اسی طرح) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’وہ یقیناً جبریل ہیں، میں انہیں اس شکل میں، جس میں پیدا کیے گئے، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا: ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا۔‘ پھر ام المؤمنین نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانے والے (فرشتے) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے، بلاشبہ وہ بہت بلند اور دانا ہے۔ (ام المؤمنین نے) فرمایا: جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ» اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا (فریضہ رسالت ادا نہ کیا۔) (اور) انہوں نے فرمایا: اور جو شخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» (اے نبی!) فرما دیجیے! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے، غیب نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 439]
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو عائشہ! (مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں، جو کوئی ان میں سے کسی کا قائل ہوا اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پوچھا: وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت بڑا جھوٹ بولا۔ مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا، تو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے بات کرنے کا موقع دیجیے! مجھ سے جلدی نہ کیجیے، کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے؟ «لَقَدْ رَأَهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ» (تکویر: 23) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» (نجم: 13) اور انہوں نے اسے ایک اور بار اترتے دیکھا۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کو ان دو دفعہ کے علاوہ ان کی اصل صورت میں جس میں وہ پیدا کیے گئے ہیں، نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں ایک دفعہ آسمان سے اترتے دیکھا۔ ان کی جسامت کی بڑائی نے آسمان و زمین کا درمیان بھر دیا تھا۔ پھر ام المومنین نے فرمایا: کیا تو نے اللہ کا فرمان نہیں سنا: «لَا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ» (انعام: 103) آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے (آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے) اور وہ باریک بین خبردار ہے۔ اور تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» (شوریٰ: 51) اور کسی بشر میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ، یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی رسول فرشتے کو بھیجے۔ جو اللہ کی مرضی سے جو وہ چاہے وحی کرے۔ بلا شبہ وہ بلند اور حکیم ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا، تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ» (مائدہ: 67) اے رسول! تیرے رب کی طرف سے تجھ پر جو کچھ اتارا گیا ہے، پہنچا دیجیے۔ اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے فریضہ رسالت ادا نہیں کیا۔ اور انہوں نے فرمایا: اور جو شخص یہ کہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات کی خبر دیتے تھے، تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ» (نمل: 65) فرما دیجیے! جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کے سوا وہ غیب نہیں جانتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ﴾ باختصار برقم (4612) وفى، باب: سورة والنجم برقم (4855) مختصراً وفي التوحيد، باب: قول الله تعالى ﴿ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴾ و ﴿ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ و ﴿ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ﴾ و ﴿ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ﴾ و ﴿ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ باختصار برقم (7380) وفى، باب: قول الله تعالى: ﴿ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ﴾ برقم (7531) باختصار - والترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة الانعام وقال: حديث حسن صحيح برقم (3068) وفي، باب: ومن سورة النجم برقم (3278) انظر ((التحفه)) برقم (17613)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 440
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ، قَالَتْ: " وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 "،
(اسماعیل کے بجائے) عبدالوہاب نے کہا: ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی (اسماعیل بن ابراہیم) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی، چھپانے والے ہوتے، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ» اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا، آپ لوگوں (کے طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 440]
اور اسی سند سے ابن علیہ رحمہ اللہ جیسی حدیث بیان کرتے ہیں اور جس میں یہ اضافہ ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ اتارا گیا ہے، اس کو چھپانے والے ہوتے تو یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ» (الأحزاب: 37) اس وقت کو یاد کرو! جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے احسان فرمایا اور آپ نے انعام فرمایا، کہہ رہے تھے، اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو، اور آپ اپنے جی میں وہ چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں کے (طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ ڈرنے کا حق دار اللہ ہی ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 440]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (438)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 441
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصته وحديث داود، أتم، وأطول.
اسماعیل (بن ابی خالد) نے (عامر بن شراحیل) شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ پھر (اسماعیل نے) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 441]
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو انہوں نے تعجب سے کہا: «سُبْحَانَ اللہِ» سبحان اللہ! تیری بات سے میرے بال کھڑے ہو گئے ہیں۔ (رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں) اسماعیل رحمہ اللہ نے حدیث واقعہ سمیت بیان کی، لیکن داؤد رحمہ اللہ کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 441]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (438)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 442
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى {8} فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى {10} سورة النجم آية 8-10؟ قَالَتْ: " إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ، الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ، فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ ".
(سعید بن عمرو) ابن اشوع نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا: «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ * فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ * فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور دو کمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ تو جبریل تھے، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 442]
حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، اللہ کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟ «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰ» تو وہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب آگیا، پھر اس نے وحی کی اس بندے کی طرف جو وحی کی۔ اس نے (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس سے مراد تو بس جبریل علیہ السلام ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مردوں کی صورت (شکل) میں آتے۔ اس مرتبہ وہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت جو اس کی صورت ہے، میں آئے تو آسمان کو بھر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3234) انظر ((التحفة)) برقم (17618)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں