صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب حد السرقة ونصابها:
باب: چوری کی حد اور اس کے نصاب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1686 ترقیم شاملہ: -- 4406
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ "،
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال (کی چوری) میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4406]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال کے بدلہ میں کاٹا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1686
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1686 ترقیم شاملہ: -- 4407
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ، قَالَ: قِيمَتُهُ وَبَعْضَهُمْ، قَالَ: ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
لیث بن سعد، عبیداللہ (بن عمر بن حفص العمری)، ایوب سختیانی، ایوب بن موسیٰ، اسماعیل بن امیہ، موسیٰ بن عقبہ، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی، عبیداللہ بن عمر (عمری)، مالک بن انس اور اسامہ بن زید لیثی تک ان کے شاگردوں کی مختلف سندیں ہیں۔ ان کے بعد ان سب نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، امام مالک سے یحییٰ کی حدیث کے مانند روایت کی، البتہ ان میں سے بعض نے اس کی قیمت کہا اور بعض نے تین درہم کا ثمن (معنی وہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4407]
صاحب نے مذکورہ بالا حدیث اپنے تیرہ اساتذہ کی دس سندوں سے، نافع ہی کی مذکورہ بالا سند سے بیان کیا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ بعض نے قیمت کہا ہے اور بعض نے ثمن کا لفظ استعمال کیا ہے، اس کی قیمت تین درہم تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1686
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة