صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب معرفة العفاص والوكاء وحكم ضالة الغنم والإبل
باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1723 ترقیم شاملہ: -- 4506
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ " قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالا لِي: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، قَالَ: فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، قَالَ: فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ،
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے نکلے، مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اسے رہنے دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کا مالک آ گیا (تو اسے دے دوں گا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ کہا: میں نے ان دونوں (کی بات ماننے) سے انکار کر دیا۔ جب ہم اپنی جنگ سے واپس ہوئے (تو) میرے مقدور میں ہوا کہ میں نے حج کرنا ہے، چنانچہ میں مدینہ آیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں کوڑے کے واقعے اور ان دونوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”سال بھر اس کی تشہیر کرو۔“ میں نے (دوسرا سال) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک سال اس کی تشہیر کرو۔“ میں نے (پھر سال بھر) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک سال اس کی تشہیر کرو۔“ میں نے اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا۔ تو آپ نے فرمایا: ”اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھنا، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دینا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا۔“ پھر میں نے اسے استعمال کیا۔ (شعبہ نے کہا:) اس کے بعد میں انہیں (سلمہ بن کہیل کو) مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں (حضرت اُبی رضی اللہ عنہ نے) تین سال (تشہیر کی) یا ایک سال۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4506]
حضرت سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ میں، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ ایک جنگ کے لیے نکلے تو مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا اسے چھوڑ دو، میں نے کہا نہیں، ہاں میں اس کی تشہیر کروں گا، اگر اس کا مالک آ گیا تو ٹھیک، وگرنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا، اس طرح میں نے ان کی بات نہ مانی تو جب ہم جنگ سے واپس آئے تو میں تقدیر کے فیصلہ سے حج کے لیے نکلا اور میں مدینہ حاضر ہوا اور میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے ہو گئی تو میں نے انہیں کوڑے کا ماجرہ سنایا اور دونوں ساتھیوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک تھیلی ملی، جس میں سو دینار تھے اور میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اس کی تشہیر کرو۔“ تو میں نے اس کی تشہیر کی اور مجھے اس کو پہچاننے والا نہ ملا، پھر میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اس کی تشہیر کرو۔“ تو میں نے اس کی تشہیر کی اور مجھے اس کی شناخت کرنے والا نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد کر لو، اگر اس کا مالک آ گیا تو ٹھیک، وگرنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا۔“ تو میں نے اس سے فائدہ اٹھایا، شعبہ کہتے ہیں، میں اس کے بعد اپنے استاد سلمہ بن کہیل کو مکہ مکرمہ ملا تو انہوں نے کہا، مجھے یاد نہیں، سوید نے تین سال کہا تھا یا ایک سال۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4506]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1723 ترقیم شاملہ: -- 4507
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ " فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا،
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے سلمہ بن کہیل نے خبر دی یا انہوں نے کچھ لوگوں کو خبر دی اور میں بھی ان میں (شامل) تھا، انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ (سفر پر) نکلا، مجھے ایک کوڑا ملا۔۔ انہوں نے اسی (سابقہ روایت) کے مانند اس قول تک حدیث بیان کی: ”پھر میں نے اسے استعمال کیا۔“ شعبہ نے کہا: میں نے دس سال بعد ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے ایک سال اس کی تشہیر کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4507]
حضرت سوید بن غفلہ نے، لوگوں کو بتایا ان میں سلمہ بن کہیل بھی تھے کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو مجھے کوڑا ملا اور مذکورہ بالا حدیث فاستملتعت بها، میں نے اس سے فائدہ اٹھایا تک بیان کی، شعبہ کہتے ہیں میں نے استاد کو دس سال بعد کہتے ہوئے سنا، اس کی ایک سال تک تشہیر کر۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4507]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1723 ترقیم شاملہ: -- 4508
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا " ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ "، إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ " عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً "، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ " فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ " وَزَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ وَإِلَّا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ " وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ".
قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی۔ ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے سفیان سے روایت کی۔ محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں عبداللہ بن جعفر رقی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمر نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی۔ عبدالرحمان بن بشر نے کہا: ہمیں بہز نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی، ان سب (اعمش، سفیان، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ) نے سلمہ بن کہیل سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ حماد بن سلمہ کے سوا، ان سب کی حدیث میں تین سال ہیں اور ان (حماد) کی حدیث میں دو یا تین سال ہیں۔ سفیان، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: ”اگر کوئی (تمہارے پاس) آ کر تمہیں اس کی تعداد، تھیلی اور بندھن کے بارے میں بتا دے تو وہ اسے دے دو۔“ وکیع کی روایت میں سفیان نے یہ اضافہ کیا: ”ورنہ وہ تمہارے مال کے طریقے پر ہے۔“ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے: ”اور اگر نہیں (آیا) تو اسے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4508]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی سندوں سے سلمہ بن کہیل کی مذکورہ بالا سند سے شعبہ ہی کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں اور سب کی حدیث میں تین سال کا ذکر ہے، مگر حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے دو یا تین سال اور سفیان، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے، ”اگر تمہارے پاس ایسا آدمی آئے جو تمہیں ان کی تعداد، ان کی تھیلی اور ان کے بندھن کے بارے میں بتا دے تو اسے دے دو۔“ اور سفیان نے وکیع کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے، ”وگرنہ تمہارے مال کے حکم میں ہے۔“ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، ”وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4508]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة