🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الضيافة ونحوها:
باب: مہمان داری کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 176
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّه سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ".
ابوشریح (خویلد بن عمرو) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 176]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يوذ جاره برقم (5673) وفى باب: اكرام الضيف و خدمته اياه بنفسه برقم (5784 و 5785) وفي الرقاق، باب: حفظ اللسان برقم (6111) والمولف - مسلم - فى اللقطة، باب: الضيافة مختصراً برقم (4488 و 4489 و 4490) بلفظ قريب منه۔ والترمذى فى ((جامعه)) فى البر والصلة، باب: ما جاء فى الضيافة كم هو - ولم يذكر قصة الجار - وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1967 و 1968) مع ذكر قصة الضيافة وابن ماجه فى ((سننه)) فى الادب، باب: حق الضيف برقم (3675) انظر ((التحفة)) برقم (12056)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 4513
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ، قَالُوا: وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ".
لیث نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی، تو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا، آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کو، جو پیش کرتا ہے، اس کو لائق عزت بنائے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کو جو پیش کیا جائے، وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ایک دن اور ایک رات کا اہتمام اور مہمان نوازی تین دن ہے، جو اس سے زائد ہے وہ اس پر صدقہ ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4513]
حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گفتگو فرمائی تو میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی خاطر و مدارت کر کے اس کا احترام کرے۔ صحابہ نے پوچھا، اس کا جائزہ (خاطر مدارت) کتنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن، رات اور مہمانی تین دن ہے اور اس سے زائد دن اس پر صدقہ ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4513]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 4514
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ؟، قَالَ: يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ "،
وکیع نے کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سعید بن ابی سعید مقبری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمان نوازی تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں (ہی) ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ آپ نے فرمایا: وہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میزبانی کر سکے (تو وہ غلط کام کے ذریعے سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے)۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4514]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضیافت (مہمان نوازی) تین دن اور خاطر مدارات ایک دن رات ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی کے پاس اتنے دن ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کر دے۔ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو گناہ گار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ٹھہر گیا ہے، حالانکہ اس کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4514]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 4515
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي، وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ فِيهِ: وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ، بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ.
ابوبکر حنفی نے کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے سعید مقبری نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گفتگو فرمائی۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں یہ ذکر کیا: تم میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے ہاں ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں ڈال دے۔ اسی کے مانند جس طرح وکیع کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4515]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی، آگے لیث کی حدیث نمبر 1 کی طرح بیان کیا اور اس میں وکیع کی حدیث نمبر 2 کی طرح یہ بیان کیا، تم میں سے کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں اس قدر ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں