🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب الانفال:
باب: لوٹ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 4556
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي هَذَا "، فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1.
ابوعوانہ نے سماک سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے خمس میں سے کوئی چیز لی، اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: یہ مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ نے انکار کیا۔ کہا: اس پر اللہ عزوجل نے (یہ حکم) نازل فرمایا: لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے: اموالِ غنیمت اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4556]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بیٹے مصعب بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس میں سے ایک تلوار اٹھا لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کیا: یہ مجھے ہبہ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو یہ آیت اتری: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] آپ سے لوگ انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیں، انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 4557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ؟، فَقَالَ: ضَعْهُ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَقَالَ: ضَعْهُ، فَقَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1.
شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں: مجھے ایک تلوار ملی، (پھر کہا:) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! (یہ تلوار) مجھے مزید دے دیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو۔ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ مجھے عنایت فرما دیں۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے (جنگ میں) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔ کہا: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4557]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، میں نے ایک تلوار لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے بطورِ عطیہ عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ پھر وہ عرض کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جہاں سے اسے لیا ہے، وہیں اسے رکھ دو۔ وہ پھر عرض گزار ہوئے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے بطورِ انعام دے دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ پھر انہوں نے اٹھ کر گزارش کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بطورِ انعام عنایت فرمائیں، کیا مجھے ان لوگوں کی طرح قرار دیا جائے گا جنہوں نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو، جہاں سے اسے اٹھایا ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیں کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6238
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: " حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، قَالَتْ: زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ، وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا، قَالَ: مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا، يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ، فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي سورة لقمان آية 15 وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سورة لقمان آية 15، قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ، فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ، فَقَالَ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِيهِ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1، قَالَ: وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانِي، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ، قَالَ: فَسَكَتَ، فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا، قَالَ: وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَالْمُهَاجِرِينَ، فَقَالُوا: تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ، وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ، فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ، قَالَ: فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ، فَقُلْتُ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ، فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ سورة المائدة آية 90.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: «وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا» ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ کہا: اور (دوسری آیت اس طرح اتری کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ نے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔ میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔ کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ» یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہا: (ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ) میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ کہا: آپ نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6238]
حضرت مصعب اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، انہوں نے کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ [سورة لقمان: 15] اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔ میں چلا گیا، جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔ انہوں نے کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ انہوں نے کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں، اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا، دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [سورة المائدة: 90] بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں پھر زہیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں (محمد بن جعفر نے) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈالتے، اور انہی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6239]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرے بارے میں چار آیات اتری ہیں، آگے اوپر کی روایت کے ہم معنی روایت ہے، شعبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ لوگ انہیں (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ماں کو) کھانا کھلانا چاہتے تو ان کا منہ ڈنڈے سے کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈال دیتے اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مارا اور اسے پھاڑ دیا، اس لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں