صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب في فضل سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه:
باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6238
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: " حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، قَالَتْ: زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ، وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا، قَالَ: مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا، يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ، فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي سورة لقمان آية 15 وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سورة لقمان آية 15، قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ، فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ، فَقَالَ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِيهِ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1، قَالَ: وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانِي، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ، قَالَ: فَسَكَتَ، فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا، قَالَ: وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَالْمُهَاجِرِينَ، فَقَالُوا: تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ، وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ، فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ، قَالَ: فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ، فَقُلْتُ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ، فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ سورة المائدة آية 90.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: «وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا» ”ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔“ کہا: اور (دوسری آیت اس طرح اتری کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ نے فرمایا: ”اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔“ میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: ”جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔“ کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ» ”یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔“ کہا: (ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ) میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ کہا: آپ نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» ”بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6238]
حضرت مصعب اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، انہوں نے کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ”ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے“ اور ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ [سورة لقمان: 15] ”اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔“ میں چلا گیا، جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: ”جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔“ انہوں نے کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ انہوں نے کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں، اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا، دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [سورة المائدة: 90] ”بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق | صحابي | |
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← مصعب بن سعد الزهري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة زهير بن معاوية الجعفي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة ثبت | |
👤←👥الحسن بن موسى الأشيب، أبو علي الحسن بن موسى الأشيب ← زهير بن معاوية الجعفي | ثقة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← الحسن بن موسى الأشيب | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← زهير بن حرب الحرشي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6238
| حلفت أم سعد أن لا تكلمه أبدا حتى يكفر بدينه ولا تأكل ولا تشرب قالت زعمت أن الله وصاك بوالديك وأنا أمك وأنا آمرك بهذا قال مكثت ثلاثا حتى غشي عليها من الجهد فقام ابن لها يقال له عمارة فسقاها فجعلت تدعو على سعد فأنزل الله في القرآن هذه الآية ووصينا الإنسان ب |
جامع الترمذي |
3189
| أليس قد أمر الله بالبر والله لا أطعم طعاما ولا أشرب شرابا حتى أموت أو تكفر قال فكانوا إذا أرادوا أن يطعموها شجروا فاها فنزلت هذه الآية ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي الآية |
Sahih Muslim Hadith 6238 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري