🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 194 ترقیم شاملہ: -- 480
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ، إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً، فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ؟ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ، أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ؟، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: ائْتُوا آدَمَ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ آدَمُ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ، دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَتَلْتُ: نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونِّي، فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَأَنْطَلِقُ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا، لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى "،
ابوحیان نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی اٹھا کر آپ کو پیش کی گئی کیونکہ آپ کو مرغوب تھی، آپ نے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اس میں سے تناول کیا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا۔ بلانے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور (اللہ کی) نظر سب کے آر پار (سب کو دیکھ رہی) ہو گی۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جو ان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا۔ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: ’کیا تم نہیں دیکھتے تم کس حالت میں ہو؟ کیا تم نہیں دیکھتے تم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کرتے جو تمہاری سفارش کر دے؟‘ یعنی تمہارے رب کے حضور۔ چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: ’آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔‘ تو وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے آدم! آپ سب انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ آدم علیہ السلام جواب دیں گے: ’میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا اور یقیناً اس نے مجھے ایک خاص درخت (کے قریب جانے) سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے نوح! آپ (اہل) زمین کی طرف سے بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ وہ انہیں جواب دیں گے: ’آج میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے کبھی آیا نہ آیندہ کبھی آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے ایک دعا (خاص کی گئی) تھی وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف مانگ لی۔ (آج تو) میری اپنی جان (پر بنی) ہے۔ مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے۔ تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ چنانچہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے: ’(اے ابراہیم!) آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل (صرف اس کے دوست) ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے: ’میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا اور اپنے (تین) جھوٹ یاد کریں گے، (اور کہیں) مجھے تو اپنی جان بچانے کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغام اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت عطا کی، اللہ کے حضور ہمارے لیے سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے: ’میرا رب آج اس قدر غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں آیا اور نہ اس کے بعد آئے گا۔ میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں جس کے قتل کا مجھے حکم نہ دیا گیا تھا۔ میری جان (کا کیا ہو گا؟) میری جان (کیسے بچے گی؟) عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: ’اے عیسیٰ! آپ اللہ کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم علیہا السلام کی طرف القاء کیا اور اس کی روح ہیں، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہماری حالت جس میں ہم ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: ’میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا،‘ وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، (کہیں گے) ’مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔‘ لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ’اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ (اگر ہوتے تو بھی) معاف کر دیے، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی تعریفوں اور اپنی ایسی بہترین ثنا (کے دروازے) کھول دے گا اور انہیں میرے دل میں ڈالے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے گئے، پھر (اللہ) فرمائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے: آپ کو ملے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو کہا جائے گا: ’اے محمد! آپ کی امت کے جن لوگوں کا حساب و کتاب نہیں ان کو جنت کے دروازے میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں (بھی) لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا (فاصلہ) ہے جتنا مکہ اور (شہر بصر) یا مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 480]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ کو دستی کا گوشت پیش کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی مرغوب تھی۔ آپ نے اس سے دانتوں سے ایک دفعہ گوشت کاٹا اور فرمایا: قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہوگا؟ اللہ عز و جل قیامت کے دن تمام پہلوں اور پچھلوں کو ایک کھلے ہموار میدان میں جمع کرے گا۔ منادی کی آواز سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑے گی۔ آفتاب قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور مصیبت پہنچے گی جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گی۔ جس کو وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو، تم کس حالت میں ہو؟ تمہیں کس قدر پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ کیا تم کسی کو تلاش نہیں کرو گے؟ جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے آدم! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست مبارک سے بنایا ہے، اور آپ میں اپنی خصوصی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا، تو وہ آپ کے حضور جھک گئے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں، ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آپ دیکھ نہیں رہے ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو آدم علیہ السلام جواب دیں گے: یقیناً میرا رب آج اس قدر ناراض ہے، کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر ناراض نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے مجھے درخت سے روکا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی۔ آج مجھے تو اپنی ہی فکر ہے، تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں کیا! آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہم کس قدر پریشانی میں ہیں؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو وہ انہیں جواب دیں گے: آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اتنا کبھی اس سے پہلے غصہ میں نہیں آیا، نہ ہی اس کے بعد کبھی اس قدر غصے میں آئے گا۔ صورت حال یہ ہے، کہ مجھے ایک دعا کرنے کا حق حاصل تھا وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی، آج تو مجھے اپنی فکر دامن گیر ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض گزار ہوں گے: آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت دیکھ نہیں رہے ہیں؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ تو ابراہیم علیہ السلام انہیں کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ اس قدر اس سے پہلے غضبناک نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، اور اپنے توریوں کا تذکرہ کریں گے، مجھے تو اپنی ہی فکر دامن گیر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغامات اور ہم کلامی کی لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔ ہماری خاطر اللہ کے حضور سفارش کیجیے۔ کیا آپ ہماری بے بسی کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں، آپ اس کا ملاحظہ نہیں کر رہے؟ تو موسیٰ علیہ السلام ان کو کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے اس قدر غضبناک نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا، اور میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں، جس کے قتل کی مجھے اجازت نہ تھی۔ مجھے تو اپنی ہی فکر لاحق ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ! لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے میں گفتگو کی، آپ اللہ کا کلمہ ہیں، جس کا اس نے مریم علیہ السلام کی طرف القاء کیا، اور اس کی روح ہیں، اس لیے اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے، ہم کس قدر مصائب میں مبتلا ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں نہیں ہوا، نہ اس کے بعد اس قدر غصے میں ہوگا۔ (وہ) اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، مجھے اپنی ہی فکر ہے، میرے سوا کسی کے پاس جاؤ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو لوگ میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہم کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں؟ تو میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور بہترین ثناء کا اظہار فرمائے گا، اور میرے دل میں ڈالے گا، مجھ سے پہلے کسی کو ان سے آگاہ نہیں کیا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا! مانگ! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! تیری سفارش قبول ہوگی۔ تو میں سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! (یعنی میری امت کو بخش دے) تو کہا جائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا حساب و کتاب نہیں، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت کے دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 480]
ترقیم فوادعبدالباقی: 194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((احاديث الانبياء)) باب يزفون النسلان فى المشي ببرعة (3361) وفي، باب: قول الله عز وجل: ﴿ لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ ﴾ برقم (3340) وفي التفسير، باب: ﴿ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا ﴾ برقم (4712) والترمذى في ((جامعه)) في الزهد، باب: ما جاء في الشافعة وقال: هذا حديث حسن صحيح، برقم (2434) وفي الاطعمة، باب: ما جاء فى اى اللحم كان احب الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (1837) باختصار - وابن ماجه في ((سننه)) في الاطعمة، باب: اطايب اللحم - مختصراً برقم (3307) انظر ((التحفة)) برقم (14927)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 194 ترقیم شاملہ: -- 481
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ، فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ، قَالَ: أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَهْ؟ قَالُوا: كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: وَذَكَرَ قَوْلَهُ: فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76، وقَوْله لِآلِهَتِهِمْ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وقَوْله: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَ.
(ایک دوسری سند سے) عمارہ بن قعقاع نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ نے دستی اٹھائی، آپ کو بکری (کے گوشت) میں سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا، آپ نے اس میں سے ایک بار اپنے دندان مبارک سے تناول کیا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ پھر دوبارہ تناول کیا اور فرمایا: میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے ساتھی (اس کے بارے میں) آپ سے کچھ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: تم پوچھتے کیوں نہیں کہ یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہو گا؟‘ آپ نے فرمایا: لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے..... (عمارہ نے بھی) ابوزرعہ کے حوالے سے ابوحیان کی بیان کردہ حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں یہ اضافہ کیا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے ستارے کے بارے میں اپنا قول: ’یہ میرا رب ہے،‘ اور ان کے معبودوں کے بارے میں یہ کہنا: ’بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے،‘ اور یہ کہنا: ’میں بیمار ہوں،‘ یاد کیا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! چوکھٹ کے دونوں بازؤں تک جنت کے کواڑوں میں سے (ہر) دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا (فرمایا) ہجر اور مکہ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 481]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی کو اٹھا لیا اور آپ کو بکری کے گوشت سے سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک دفعہ دانتوں سے نوچا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ پھر دوبارہ گوشت نوچا اور فرمایا: میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ جب آپ نے دیکھا، آپ کے ساتھی اس کا سبب نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: تم کیوں نہیں پوچھتے یہ کیوں ہوگا؟ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا سبب کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ عمارہ رحمہ اللہ نے بھی حدیث مذکورہ بالا سند سے ابو حیان رحمہ اللہ نے ابو زرعہ رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں یہ اضافہ کیا: کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: میں نے کواکب (ستاروں) کے بارے میں کہا: «هَٰذَا رَبِّي» (الأنعام: 76) یہ میرا رب ہے اور ان کے معبودوں کے بارے میں کہا: بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے اور کہا: میں بیمار ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس کی قسم! جنت کے دروازوں کے دونوں پٹوں کا فاصلہ چوکھٹ تک اتنا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا ہجر اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ۔ مجھے یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کس شہر کا نام لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14914)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں