صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب استحباب مبايعة الإمام الجيش عند إرادة القتال وبيان بيعة الرضوان تحت الشجرة:
باب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4807
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ، وَقَالَ: " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ".
لیث نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ وہ ببول (کیکر) کا درخت تھا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4807]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو (1400) افراد تھے، تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ایک کیکر کے درخت کے نیچے کی، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور ہم نے بیعت اس شرط پر کی تھی کہ میدان سے بھاگیں گے نہیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4808
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ".
سفیان نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4808]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4809
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: " كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ "، غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا، وہ ببول کا درخت تھا، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے، (اس نے آپ سے بیعت نہیں کی) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4809]
ابو زبیر بیان کرتے ہیں، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا گیا، حدیبیہ کے دن صحابہ کرام کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا، ہم چودہ سو (1400) تھے، تو ہم نے آپ سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک درخت کے نیچے آپ کا دست مبارک پکڑے ہوئے تھے اور یہ کیکر کا درخت تھا، جد بن قیس انصاری کے سوا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4810
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ " هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ؟، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.
ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان بن مجالد کے آزاد کردہ غلام حجاج بن محمد اعور نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے سوال کیا گیا تھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ آپ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی اور درخت کے نیچے بیعت نہیں لی۔ ابن جریج نے کہا: انہیں ابوزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4810]
ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، لیکن وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی درخت کے پاس بیعت نہیں لی اور ابن جریج بیان کرتے ہیں اور مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنواں پر دعا کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4811
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ "، وقَالَ جَابِرٌ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.
عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4811]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو (1400) افراد تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تم روئے زمین کے تمام افراد سے بہترین ہو یا روئے زمین کے بہترین افراد ہو۔“ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ”اگر مجھے نظر آتا ہوتا تو میں تمہیں درخت کی جگہ دکھاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4811]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4812
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ ".
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ (بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ (پانی) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم (تقریبا) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4812]
سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتایا، اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے، تو ہمارے لیے پانی کافی ہوتا، ہم پندرہ سو تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4812]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4813
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ كِلَاهُمَا، يَقُولُ: عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً ".
حصین نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ (پانی) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم (تقریبا) پندرہ سو تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4813]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہمارے لیے پانی کافی ہوتا، ہم پندرہ سو تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1856 ترقیم شاملہ: -- 4814
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ : " كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ".
اعمش نے کہا: مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ایک ہزار چار سو۔ (یعنی بیعت کرنے والے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4814]
سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، اس دن آپ کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، چودہ سو (1400)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة