صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
86. باب اختباء النبي صلى الله عليه وسلم دعوة الشفاعة لامته:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 491
حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو (یقینی طور پر) قبول کی جانے والی ہے۔ ہر نبی نے اپنی وہ دعا جلدی مانگ لی، جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 491]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے، جب کہ ہر نبی جلدی کرتے ہوئے (دنیا میں) دعا کر چکا ہے۔ میری شفاعت ہر اس انسان کو حاصل ہو گی «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ جو میری امت سے اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 491]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الدعوات، باب: فضل لاحول ولا قوة الا بالله برقم (3602) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4307) انظر ((التحفة)) برقم (12512)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا، فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک قبول کی جانے والی دعا ہے، وہ اسے مانگتا ہے تو (ضرور) قبول کی جاتی ہے اور وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا (بچا) کر رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 492]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے جو وہ کرتا ہے، اور وہ اس کی خاطر قبول ہوتی ہے، اور وہ اسے دی جاتی ہے، اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 492]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14917)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 493
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
محمد بن زیاد نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور وہ اس کے لیے قبول ہوئی۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 493]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے، جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگ لی ہے، اور وہ اس کے حق میں قبول ہو چکی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14397)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة