صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب إذا غاب عنه الصيد ثم وجده:
باب: شکار کے غائب ہونے کے بعد پھر مل جانے کے حکم کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
ابوعبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”جب تم (شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہو جائے، پھر تم کو مل جائے تو کھا لو جب تک بدبودار نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4985]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب تم اپنا تیر (شکار پر) پھینکو اور شکار تم سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اس کو پا لو، تو اسے کھا لو، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4986
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
معن بن عیسیٰ نے کہا: مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے، روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو۔“ (سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4986]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکاری کے بارے میں بیان کرتے ہیں، جو اپنے شکار کو تین دن کے بعد پا لیتا ہے، ”اس کو کھا لے بشرطیکہ اس میں بدبو نہ پیدا ہو چکی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4987
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ، وَقَالَ فِي الْكَلْبِ: كُلْهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ.
محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابوثعلبہ بن خشنی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی، پھر ابن حاتم رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر اور ابوزاہریہ سے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اور کتے (کے شکار) کے بارے میں فرمایا: ”تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو، لیکن اگر اس سے بدبو آئے تو اس کو چھوڑ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4987]
امام صاحب اپنے استاد محمد بن حاتم سے ابو ثعلبہ کی شکار کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں،۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة