صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب الامر بإحسان الذبح والقتل وتحديد الشفرة:
باب: ذبح یا قتل اچھی طرح کرنا چاہیئے اور چھری کو تیز کر لینا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1955 ترقیم شاملہ: -- 5055
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ".
اسماعیل بن علیہ نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے جب تم (قصاص یا حد میں کسی کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ایک شخص (جو ذبح کرنا چاہتا ہے) وہ اپنی (چھری کی) دھار کو تیز کر لے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5055]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے دو باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ٹھہرایا ہے، سو جب تم قتل کرو، تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو، تم میں سے ہر شخص کو اپنی چھری تیز کرنی چاہیے اور ذبیحہ کو آرام پہنچانا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1955 ترقیم شاملہ: -- 5056
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.
ہشیم، عبدالوہاب ثقفی، شعبہ، سفیان اور منصور، سب نے خالد حذاء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5056]
امام صاحب نے اپنے بہت سارے اساتذہ سے، خالد حذاء کی سند سے، اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة