🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب وقتها:
باب: قربانی کا وقت کیا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5069
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ؟ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
مطرف نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے ماموں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی ایک (عام) بکری ہے (قربانی کی نہیں۔) انہوں (حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر دو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے کے) لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پالیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5069]
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میرے ماموں ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے۔ اس نے عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ہاں جذعہ بکری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو قربانی کر لو، تیرے سوا کسی کے لیے ٹھیک نہیں ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی، اس نے تو بس اپنے کھانے کے لیے ذبح کی ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کی، تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں والا طریقہ اختیار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5070
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِدْ نُسُكًا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَقَالَ: " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
ہشیم نے داود سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر دیا اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتا ہے۔ (اور اس کی چاہت باقی نہیں رہتی) اور میں نے اپنے بچوں، ہمسایوں اور گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اور (جانور) ذبح کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (تم اسی کی قربانی کر لو) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5070]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ماموں ابو بردہ بن نیار رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کر دی، اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایسا دن ہے، جس میں گوشت کی خواہش کرنا ناپسندیدہ ہے اور میں نے اپنی قربانی جلد ہی کر دی، تاکہ اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور محلہ داروں کو کھلاؤں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی دوبارہ کر۔ میں نے عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس دودھ پیتی بکری ہے، جو دو گوشت والی بکریوں سے بہتر ہے، (خوب موٹی تازی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے لیے اچھی قربانی ہے، تیرے سوا کسی کے لیے جَذَعة کافی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ "، قَالَ: فَقَالَ خَالِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ.
ابن ابی عدی داود سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: کوئی شخص بھی نماز سے پہلے ہرگز (قربانی کا جانور) ذبح نہ کرے۔ تو میرے ماموں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتا ہے۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5071]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھنے سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔ تو میرے ماموں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایک ایسا دن ہے، جس میں گوشت (دن کے آخری حصہ میں) ناپسندیدہ ہو جاتا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5072
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ "، فَقَالَ خَالِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي، فَقَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لِأَهْلِكَ "، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ، قَالَ: " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ ".
فراس نے عامر سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے۔ میرے ماموں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ (ذبیحہ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے جلد ذبح کر لیا۔ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5072]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کا رخ کیا اور ہماری طرح قربانی کی، وہ نماز پڑھنے سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔" تو میرے ماموں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ تو ایسی چیز ہے، جو تو نے اپنے گھر والوں کے لیے عجلت سے کرلی ہے، اس نے کہا: میرے پاس ایک بکری ہے، جو دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اس کو قربان کر لو، کیونکہ (یہ پہلی بکری کے ساتھ مل کر) بہترین قربانی ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5073
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ "، فَقَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ: " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے زبید یمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن ہم جس کام سے آغاز کریں گے (وہ یہ ہے) کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر لوٹیں گے، اور قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے۔ حضرت ابوبردہ بن دینار رضی اللہ عنہ (اس سے پہلے) ذبح کر چکے تھے انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتے بکرے سے بہتر ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ذبح کر دو، اور تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5073]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن سب سے پہلے ہم نماز پڑھیں گے، پھر واپس جا کر قربانی کریں گے، جس نے اس طرح کیا، اس نے ہمارے طریقہ پر عمل کر لیا اور جس نے ذبح کر لیا ہے، وہ تو گوشت ہے، جو اس نے پہلے اپنے گھر والوں کو پیش کر دیا ہے، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور ابوبردہ بن نیار رضی اللہ تعالی عنہ قربانی کر چکے تھے، انہوں نے کہا: میرے پاس جَذَعة ہے جو مُسِنه سے بہتر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ذبح کرو، تیرے سوا کسی کے لیے کفایت نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5074
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے زبید سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5074]
یہی روایت مصنف ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5075
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
منصور نے شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5075]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5076
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ، فَقَالَ: " لَا يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ "، قَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: " فَضَحِّ بِهَا وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: کوئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ ایک شخص نے کہا: میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی (کھیری) بکری ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر دو، تمہارے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5076]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: کوئی نماز پڑھنے سے پہلے ہرگز قربانی نہ کرے۔ ایک آدمی نے کہا، میرے پاس دودھ سے پلا بکری کا بچہ ہے، جو گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ذبح کر لو، تیرے سوا جذعہ کسی کے لیے کفایت نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْدِلْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَالَ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
محمد بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے۔ شعبہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا:۔۔۔اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کی جگہ (ذبح) کر لو لیکن یہ تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5077]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوبردہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر ڈالی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا بدل دو۔ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس جَذَعة کے سوا کچھ نہیں، اس نے کہا، وہ مُسِنه سے بہتر ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی جگہ اسے کرو اور تیرے سوا ہرگز کسی کو کفایت نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1961 ترقیم شاملہ: -- 5078
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ.
وہب بن جریر اور ابوعامر عقدی نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان یہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے کے بارے میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5078]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے شعبہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں، اس قول کے بارے میں شک کا اظہار نہیں کیا گیا، کہ وہ مُسِنه [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5078]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں