صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب كراهة انتباذ التمر والزبيب مخلوطين:
باب: کھجور اور انگور کو ملا کر بھگونا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1987 ترقیم شاملہ: -- 5149
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا، وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا ".
تیمی نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نبیذ بناتے ہوئے) خشک کھجوروں اور کشمش کو ملانے سے اور خشک کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5149]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمر اور زبیب دونوں کو ملانے سے، تمر اور بسر دونوں کو ملانے سے نبیذ کی خاطر منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1987 ترقیم شاملہ: -- 5150
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَخْلِطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَأَنْ نَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ ".
سعید بن یزید ابومسلمہ نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم (نبیذ بنانے کے لیے) کشمش اور خشک کھجوروں کو ایک دوسرے سے ملا دیں اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم یکجا کر لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5150]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے منع فرمایا کہ ہم (نبیذ بنانے کے لیے) زبیب اور تمر کو ملائیں، بسر اور تمر کو ملائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1987 ترقیم شاملہ: -- 5151
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5151]
امام صاحب ایک اور استاد سے ابو مسلمہ کی سند ہی سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1987 ترقیم شاملہ: -- 5152
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ النَّبِيذَ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْهُ زَبِيبًا فَرْدًا أَوْ تَمْرًا فَرْدًا أَوْ بُسْرًا فَرْدًا ".
وکیع نے اسماعیل بن مسلم عبدی سے، انہوں نے ابومتوکل ناجی سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نبیذ پیے وہ صرف کشمش کا نبیذ پیے یا صرف خشک کھجوروں کا نبیذ پیے یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5152]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو نبیذ پینا چاہے، وہ اکیلا منقہ سے پیے، صرف کھجوروں سے پیے، اکیلی بسر سے پیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5152]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1987 ترقیم شاملہ: -- 5153
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَخْلِطَ بُسْرًا بِتَمْرٍ أَوْ زَبِيبًا بِتَمْرٍ أَوْ زَبِيبًا بِبُسْرٍ "، وَقَالَ مَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں اسماعیل بن مسلم عبدی نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (نبیذ میں) کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے ساتھ ملانے، یا کشمش کو خشک کھجور کے ساتھ یا کشمش کو نیم پختہ کھجوروں کے ساتھ ملانے سے منع کیا اور یہ فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اسے پیے۔۔۔“ آگے وکیع کی حدیث (5152) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5153]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم بسر کو تمر سے ملائیں، یا زبیب کو تمر سے ملائیں، یا زبیب کو بسر سے ملائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو اس کو پینا چاہتا ہو۔“ وکیع کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة