صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5233
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ ".
عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، اس دن ان کی بیوی خدمت بجا لا رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں۔ سہل نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا؟ اس نے رات کو پتھر کے ایک بڑے برتن میں پانی کے اندر کچھ کھجوریں ڈال دی تھیں، جب آپ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (مشروب) پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5233]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی شادی کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، (آپ کے کچھ ساتھی بھی ساتھ تھے) اس دن ان کی خدمت، ابواسید رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی نے ہی کی جو دلہن تھی، حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، تم جانتے ہو، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ اس نے رات کو ایک پتھر کے بڑے پیالے میں کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دیں، جب آپ نے کھانا کھا لیا تو آپ کو یہ نبیذ پلا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5234
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.
یعقوب بن عبدالرحمن نے ابوحازم سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: جب آپ نے کھانا تناول فرما لیا اس نے وہ (مشروب) پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5234]
حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو دعوت دی، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، لیکن اس میں یہ نہیں ہے، جب آپ نے کھانا کھا لیا، تو آپ کو نبیذ پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5235
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ.
محمد ابوغسان نے کہا: مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا: (اس نے) پتھر کے ایک بڑے پیالے میں (نبیذ بنائی)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس (ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دلہن) نے اس (پھل کو جو پانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا) پانی میں گھلایا اور آپ کو پلایا، آپ کو خصوصی طور پر (پلایا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
امام صاحب ایک اور استاد سے سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں تَور کے بعد ”من حجارة“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة