صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب استحباب إدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدئ:
باب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2030 ترقیم شاملہ: -- 5292
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ "، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: ”تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟“ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5292]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروب پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پی لیا، آپ کے دائیں جانب ایک نوعمر لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے افراد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوعمر لڑکے سے پوچھا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان کو دے دوں؟“ لڑکے نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والے اپنے حصہ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2030 ترقیم شاملہ: -- 5293
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولَا فَتَلَّهُ وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری، دونوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان دونوں نے یہ نہیں کہا: آپ نے وہ (پیالہ اس کے ہاتھ پر) رکھ دیا، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے وہ (پیالہ) اسے عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5293]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، انہوں نے فتله [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة