صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب وجوب الطهارة للصلاة:
باب: نماز کے لئے طہارت کا ہونا ضروری ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 224 ترقیم شاملہ: -- 535
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَلَى ابْنِ عَامِرٍ، يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ ".
ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا: ’اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گے؟‘ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔“ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں (مبادا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر رحمہ اللہ کے پاس ان کی بیماری کی عیادت کے لیے گئے۔ ابن عامر رحمہ اللہ نے کہا: اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کریں گے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”کوئی نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور نہ کوئی صدقہ خیانت کی صورت میں۔“ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
ترقیم فوادعبدالباقی: 224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذى فى ((جامعه)) في الطهارة، باب: ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور - برقم (1) وقال: هذا الحديث اصح شي في الباب واحسن۔ وابن ماجه ((سننه)) في الطهارة وسنتها، باب: لا يقبل الله صلاة بغير طهور برقم (273) انظر ((التحفة)) برقم (7457)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 224 ترقیم شاملہ: -- 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ . ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
شعبہ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 536]
امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 536]
ترقیم فوادعبدالباقی: 224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (534)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة