صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب السحر:
باب: جادو کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2189 ترقیم شاملہ: -- 5703
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَتْ: حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ؟ "، جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ: الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ، قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟، قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟، قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، قَالَ: وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ، قَالَتْ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ: " وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ؟، قَالَ: " لَا، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ "
ابن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی، پھر فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟“ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس (وہ دونوں فرشتے تھے) جو سر کے پاس بیٹھا تھا، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر۔“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ (یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5703]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی جس کو لبید بن اعصم کہا جاتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں، حالانکہ آپ وہ کام کر نہیں رہے ہوتے تھے، حتی کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی، پھر دعا کی، پھر دعا کی، پھر فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ چلا، اللہ تعالیٰ سے جو میں نے پوچھا، وہ اس نے مجھے بتلا دیا ہے؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھا، سو جو میرے سرہانے بیٹھا تھا، اس نے میرے پیروں کی طرف بیٹھنے والے سے یا جو میرے پیروں کے پاس تھا، اس نے میرے سرہانے بیٹھنے والے سے پوچھا، اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا، اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے پوچھا، اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا، لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا، کس چیز میں؟ اس نے کہا، کنگھی اور اس سے جھڑنے والے بالوں میں اور کہا، نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس نے کہا، اس کو کہاں رکھا ہے؟ اس نے کہا، ذروان کنویں میں“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اس کنویں پر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ کی قسم! اس کنویں کا پانی گویا مہندی کا پانی تھا اور اس کی کھجوریں گویا شیطان کے سر تھے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو جلا کیوں نہ دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا بخش دی ہے، اور میں لوگوں میں شر برپا کرنا پسند نہیں کرتا، اس لیے میں نے کنویں کے دفن کرنے کا حکم دیا اور اسے دفن کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5703]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2189 ترقیم شاملہ: -- 5704
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ: فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، وَقَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔ اس کے بعد ابوکریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کی طرف تشریف لے گئے، اسے دیکھا، اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے (جنہیں کسی زمانے میں کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہوگا) انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اسے نکالیں (اور جلا دیں) ابوکریب نے: ”آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ (بھی) بیان نہیں کیے: ”میں نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5704]
امام صاحب کے استاد ابو کریب مذکورہ بالا روایت سناتے ہیں اور اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف نکلے، اسے دیکھا، اس پر کھجوروں کے درخت تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نکلوائیے، اس میں یہ نہیں ہے کہ ”آپ نے اسے جلایا کیوں نہیں؟“ اور نہ یہ ہے، ”میرے حکم سے اس کو دفن کر دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5704]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة