صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5819
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَقَالَ عَبد: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ، قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ، وَيَزِيدُونَ ".
صالح نے ابن شہاب سے، روایت کی: کہا مجھے علی بن حسین نے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ لوگ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک ستارے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگایا جاتا تھا تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟“لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ہم یہی کہا کرتے تھے کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہوئی ہے اور کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہمارا رب، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش (زور سے) تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد (دنیا کے) اس آسمان تک پہنچ جاتا ہے، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا پھر (مختلف) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں (کاہنوں) تک چھینکتے ہیں (اس خبر کو پہنچا دیتے ہیں) اور وہ صحیح طور پر لاتے ہیں وہ سچ تو ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے اور اضافہ کردیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5819]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے بتلایا، اس اثناء میں کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک ستارہ پھینکا گیا اور اس کی روشنی پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جاہلیت کے دور میں اس طرح ستارہ ٹوٹتا تو تم کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: اصل حقیقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم ہے، ہم کہتے تھے: آج رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے اور ایک عظیم آدمی فوت ہوا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعہ یہ ہے، اسے کسی کی موت یا کسی کی زندگی کے لیے نہیں پھینکا جاتا، یعنی کسی کی موت و حیات پر ستارہ نہیں ٹوٹتا، لیکن ہمارا برکت والا رب، جس کا نام بلند و بالا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے ہیں، پھر ان کے قریبی آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ یہ تسبیح اس قریبی آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے، پھر حاملینِ عرش سے قریب والے فرشتے ان حاملینِ عرش سے دریافت کرتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ انہیں جو اس نے فرمایا ہوتا ہے، اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ تو آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، حتیٰ کہ خبر اس قریبی آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن چوری چھپے بات اچکتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں کی طرف پھینکتے ہیں اور انہیں ستارے پڑتے ہیں تو جو وہ صحیح صورت میں بتاتے ہیں، وہ حق ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5820
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قال: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّهُ: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: الْحَقَّ، وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
اوزاعی، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر یونس نے کہا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور بڑھاتے ہیں۔“اور یونس کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اونچا لے جاتے ہیں (مبالغہ کرتے ہیں) اور بڑھاتے ہیں۔“یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں حق کہا۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5820]
امام صاحب یہی روایت اپنے اساتذہ کی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں، اوزاعی کی روایت ہے: ”لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ یونس کی حدیث ہے: ”لیکن وہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ اور یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ﴾ [سورة سبإ: 23] جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے، وہ پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: جو کہا ٹھیک کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة