صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب استحباب قتل الوزغ:
باب: گرگٹ مارنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2237 ترقیم شاملہ: -- 5842
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر بن ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، سفیان بن عیینہ نے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھپکلیوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ”(ان کا حکم دیا)“ کے بجائے صرف ”حکم دیا“ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5842]
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”گرگٹ مارنے“ کا حکم دیا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حکم دیا“، مارنے کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2237
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2237 ترقیم شاملہ: -- 5843
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا "، وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ.
ابوطاہر نے کہا: ہمیں ابن وہب نے بتایا کہا، مجھے ابن جریج نے خبر دی۔ اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے کہا: ہمیں روح نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی۔ اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں محمد بن بکر نے بتایا، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے عبدالحمید بن جبیر نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے متعلق آپ کا حکم پوچھا تو آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔ ام شریک رضی اللہ عنہا بنو عامر بن لؤی کی ایک خاتون تھیں (محمد بن احمد بن ابی خلف اور عبدبن حمید کی حدیث کے الفاظ ایک ہیں اور ابن وہب کی حدیث اس سے قریب ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5843]
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گرگٹ مارنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے قتل کرنے کا حکم دیا“، ام شریک رضی اللہ عنہا بنو عامر بن لؤی کی عورتوں میں سے ایک ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5843]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2237
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة