یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب استحباب قتل الوزغ:
باب: گرگٹ مارنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2237 ترقیم شاملہ: -- 5842
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر بن ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، سفیان بن عیینہ نے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھپکلیوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ”(ان کا حکم دیا)“ کے بجائے صرف ”حکم دیا“ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5842]
حضرت ام شریک رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گرگٹ مارنے کا حکم دیا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے، آپ نے حکم دیا، مارنے کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2237
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3307
| أمرها بقتل الأوزاغ |
صحيح البخاري |
3359
| أمر بقتل الوزغ وقال كان ينفخ على إبراهيم |
صحيح مسلم |
5842
| بقتل الأوزاغ |
صحيح مسلم |
5843
| قتل الوزغان فأمر بقتلها |
سنن النسائى الصغرى |
2888
| بقتل الأوزاغ |
سنن ابن ماجه |
3228
| أمرها بقتل الأوزاغ |
مسندالحميدي |
353
| أمرها بقتل الأوزاغ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5842 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5842
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الاوزاغ:
وزغة کی جمع ہے،
یہ سام ابرص(چھپکلی)
کی جنس سے ہے اور بقول علامہ دمیری سانپ کی طرح انڈے دیتا ہے اور سردی کے چار ماہ اپنی بل میں رہتا ہے،
کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔
یہ انتہائی موذی جاندار ہے،
اس لیے آپ نے اسے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہاں گرگٹ سے مراد چھپکلی ہے۔
مفردات الحدیث:
الاوزاغ:
وزغة کی جمع ہے،
یہ سام ابرص(چھپکلی)
کی جنس سے ہے اور بقول علامہ دمیری سانپ کی طرح انڈے دیتا ہے اور سردی کے چار ماہ اپنی بل میں رہتا ہے،
کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔
یہ انتہائی موذی جاندار ہے،
اس لیے آپ نے اسے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہاں گرگٹ سے مراد چھپکلی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5842]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3228
چھپکلی مارنے کا حکم۔
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3228]
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3228]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
وزع کا ترجمہ علماء نے گرگٹ اور بعض نے چھپکلی کیا ہے۔
دوسرا ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔
فوائد و مسائل:
وزع کا ترجمہ علماء نے گرگٹ اور بعض نے چھپکلی کیا ہے۔
دوسرا ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3228]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:353
353- سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرگٹ (یا چھپکلی) کو مارنے کی ہدایت کی تھی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:353]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چھپکلی مارنا فرض ہے، نیز اس کو پہلی ضرب سے مارنے کے بدلے میں 100 نیکیاں بھی ملتی ہیں۔ (صحیح مسلم: 5847 / 2240) اس کو مارنے کی وجہ بھی حدیث میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا، البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار، مار کر تیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔“ (سنن ابن ماجہ: 3231۔ حسن) یاد رہے کہ قواعد فقہیہ میں سے ہے کہ جس جانور کو قتل کر نے کا حکم دیا گیا ہو، یا جس جانور کوقتل کرنے سے منع کیا گیا ہو، اس کا کھانا حرام ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چھپکلی مارنا فرض ہے، نیز اس کو پہلی ضرب سے مارنے کے بدلے میں 100 نیکیاں بھی ملتی ہیں۔ (صحیح مسلم: 5847 / 2240) اس کو مارنے کی وجہ بھی حدیث میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا، البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار، مار کر تیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔“ (سنن ابن ماجہ: 3231۔ حسن) یاد رہے کہ قواعد فقہیہ میں سے ہے کہ جس جانور کو قتل کر نے کا حکم دیا گیا ہو، یا جس جانور کوقتل کرنے سے منع کیا گیا ہو، اس کا کھانا حرام ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 353]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3359
3359. حضرت اُم شریک ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارڈالنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ پر پھونکیں مار مار کر آگ تیز کرتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3359]
حدیث حاشیہ:
یعنی اس نے پھونکیں مارکر آگ کو اور بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔
یہ گرگٹ ایک مشہور زہریلا جانور ہے جو ہر آن اپنے رنگ بھی بدلتا رہتا ہے۔
جسے مارنے کا حکم خود حدیث شریف میں ہے اور اسے مارنے پر ثواب بھی ہے۔
روایت میں اس کی حرکت بد کا ذکر ہے۔
یہ بھی واقعہ بالکل برحق ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمادیا اس میں شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔
یعنی اس نے پھونکیں مارکر آگ کو اور بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔
یہ گرگٹ ایک مشہور زہریلا جانور ہے جو ہر آن اپنے رنگ بھی بدلتا رہتا ہے۔
جسے مارنے کا حکم خود حدیث شریف میں ہے اور اسے مارنے پر ثواب بھی ہے۔
روایت میں اس کی حرکت بد کا ذکر ہے۔
یہ بھی واقعہ بالکل برحق ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمادیا اس میں شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3359]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3307
3307. حضرت ام شریک ؓسے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3307]
حدیث حاشیہ:
ایک حدیث میں اسے مار ڈالنے کی وجہ بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی آگ کو پھونکیں مارمار کرتیز کرتی تھی۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3359)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب حضرت ابراہیم ؑ آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا،البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار،مار کرتیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ماردینے کا حکم دیا۔
“ حضرت عائشہ ؓنے ان کا کام تمام کرنے کے لیے ایک نیزہ رکھا ہواتھا۔
(سن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3231)
حضرت ام شریک ؓنے انھیں مارنے کی باقاعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل کی تھی۔
(صحیح مسلم السلام حدیث: 5842(2237)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اسے پہلی ضرب سے قتل کرنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے ماردینے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے ختم کرنے میں اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔
" (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5847(2240)
ایک حدیث میں اسے مار ڈالنے کی وجہ بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی آگ کو پھونکیں مارمار کرتیز کرتی تھی۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3359)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب حضرت ابراہیم ؑ آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا،البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار،مار کرتیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ماردینے کا حکم دیا۔
“ حضرت عائشہ ؓنے ان کا کام تمام کرنے کے لیے ایک نیزہ رکھا ہواتھا۔
(سن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3231)
حضرت ام شریک ؓنے انھیں مارنے کی باقاعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل کی تھی۔
(صحیح مسلم السلام حدیث: 5842(2237)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اسے پہلی ضرب سے قتل کرنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے ماردینے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے ختم کرنے میں اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔
" (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5847(2240)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3307]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3359
3359. حضرت اُم شریک ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارڈالنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ پر پھونکیں مار مار کر آگ تیز کرتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3359]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے بلکہ اسے پہلی ضرب سے مارنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے مارنے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے اسے ختم کرنے سے اس سے بھی کم نیکیاں ملتی ہیں، بہرحال اسے مارنا کارثواب ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5846(2240)
حضرت ام شریک ؓ نے انھیں مار نے کے لیے باضابطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5843(2237)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے بلکہ اسے پہلی ضرب سے مارنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے مارنے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے اسے ختم کرنے سے اس سے بھی کم نیکیاں ملتی ہیں، بہرحال اسے مارنا کارثواب ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5846(2240)
حضرت ام شریک ؓ نے انھیں مار نے کے لیے باضابطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5843(2237)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3359]
Sahih Muslim Hadith 5842 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أم شريك الأنصارية