🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب استحباب إطالة الغرة والتحجيل في الوضوء:
باب: اعضاء وضو کو چمکانے کے لیے مقررہ حد سے زیادہ دھونے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 249 ترقیم شاملہ: -- 584
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى الْمَقْبُرَةَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ، أَلَا هَلُمَّ؟ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا، سُحْقًا ".
اسماعیل (بن جعفر) نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے اور فرمایا: اے ایمان والی قوم کے گھرانے! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ نے جواب دیا: تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں) نہیں آئے۔ اس پر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو، جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے (اور) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ وضو کی بنا پر روشن چہروں، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشرو ہوں گا، خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹائے جائیں گے، جیسے (کہیں اور کا) بھٹکا ہوا اونٹ (جو گلے کا حصہ نہیں ہوتا) پرے ہٹا دیا جاتا ہے، میں ان کی آواز دوں گا، دیکھو! ادھر آ جاؤ۔ تو کہا جائے گا، انہوں نے آپ کے بعد (اپنے قول و عمل کو) بدل لیا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 584]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لائے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» اے مومنوں کے گروہ! تم پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ مزید فرمایا: میری خواہش ہے کہ کاش ہم نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہوتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک دنیا میں نہیں آئے۔ تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتائیے! اگر کسی کے روشن پیشانی اور روشن ہاتھ پاؤں والے گھوڑے (یعنی پانچ کلیان) ایسے گھوڑوں کے درمیان ہوں جو خالص سیاہ ہوں، تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان نہیں لے گا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ وضو کی بنا پر روشن چہروں اور روشن ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے یوں ہٹائے جائیں گے جیسے بھٹکا ہوا اونٹ دور ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو آواز دوں گا: خبردار! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد اپنے آپ کو بدل لیا تھا (آپ کے راستہ یا طرز عمل میں آمیزش کر دی تھی) تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ! [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 584]
ترقیم فوادعبدالباقی: 249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14008)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 249 ترقیم شاملہ: -- 585
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ جَمِيعًا، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ: فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ، عَنْ حَوْضِي.
(اسماعیل کے بجائے) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو، ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔ (الا، یعنی خبردار کے بجائے ف، یعنی تو، کا لفظ ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 585]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» اے مومنوں کے گھروں کے باسیو! تم پر سلامتی ہو! اور جب اللہ کو منظور ہو گا، تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل جائیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 585]
ترقیم فوادعبدالباقی: 249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما يقول اذا زار القبور او مربها برقم (3237) والنسائي في ((المجتبي)) 93/1 في الطهارة، باب: حلية الوضوء - انظر ((التحفة)) برقم (14086)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں