صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب اسْتِحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ:
باب: اعضاء وضو کو چمکانے کے لیے مقررہ حد سے زیادہ دھونے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 246 ترقیم شاملہ: -- 579
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ، فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ ".
عمارہ بن غزیہ انصاری نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ (ہی) روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے، بڑھا لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 579]
نعیم بن عبداللہ مجمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے چہرہ مکمل دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا، حتیٰ کہ بازو کا بھی ایک حصہ دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ دھویا، حتیٰ کہ بازو کا کچھ حصہ بھی دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا، حتیٰ کہ پنڈلی تک پہنچے، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی کا کچھ حصہ دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن کامل وضو کرنے کی وجہ سے روشن و منور چہرے اور روشن اور منور ہاتھ پاؤں والے ہو گے، تو تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی چمک اور روشنی کو بڑھا سکے، بڑھا لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 579]
ترقیم فوادعبدالباقی: 246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: فضل الوضوء، والغر المحجلون من آثار الوضوء برقم (3) مختصراً - انظر ((التحفة)) برقم (14643)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 246 ترقیم شاملہ: -- 580
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ، فَلْيَفْعَلْ ".
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے، بڑھا لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 580]
نعیم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے۔ پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے، حتیٰ کہ پنڈلیوں تک پہنچ گئے۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میرے امتی قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہرہ اور چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، تم میں سے جو اپنی روشنی اور نورانیت بڑھا سکے، تو ایسا کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 580]
ترقیم فوادعبدالباقی: 246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (578)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 581
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ".
مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 581]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ بڑا ہے، اور (اس کا پانی) یقیناً برف سے زیادہ سفید اور شہد ملے ہوئے دودھ سے زیادہ شیریں ہے، اور اس کے برتنوں کی تعداد یقیناً ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہے، اور میں لوگوں کو اس سے روکوں گا جس طرح ایک انسان اپنے حوض سے دوسرے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! تمہارے لیے ایک علامت ہو گی، جو دوسری کسی امت میں نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثر سے روشن چہرے اور چمک دار ہاتھ پاؤں سے پہنچو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم برقم (4282) انظر ((التحفة)) برقم (13399)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 582
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ، وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ، فَلَا يَصِلُونَ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ، فَيَقُولُ: وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ ".
(مروان کے بجائے) ابن فضیل نے ابومالک اشجعی سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو اس (حوض) سے دور ہٹاؤں گا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثرات سے روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کام ایجاد کیے تھے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 582]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اس سے لوگوں کو ہٹاؤں گا، جیسے ایک مرد اپنے اونٹوں سے دوسرے انسان کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔“ انہوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی میں نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثرات کی بنا پر روشن چہرے اور چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں، تو مجھے ایک فرشتہ جواب دے گا: کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے کام نکالے تھے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 582]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (580)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 248 ترقیم شاملہ: -- 583
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ، كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ، عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو ہٹاؤں گا، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 583]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرا حوض اس سے زیادہ مسافت والا ہے، جتنی ایلہ کی عدن سے ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں بلاشبہ اس سے مردوں کو روکوں گا جس طرح آدمی اپنے حوض سے اجنبی اونٹوں کو دور کرتا ہے۔“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے، کہ وضو کے اثرات کی وجہ سے روشن چہرے، چمکدار ہاتھ پاؤں سے آؤ گے، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 583]
ترقیم فوادعبدالباقی: 248
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الحوض برقم (4302) انظر ((التحفة)) برقم (3315)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 249 ترقیم شاملہ: -- 584
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى الْمَقْبُرَةَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ، أَلَا هَلُمَّ؟ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا، سُحْقًا ".
اسماعیل (بن جعفر) نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے اور فرمایا: ”اے ایمان والی قوم کے گھرانے! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ نے جواب دیا: ”تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں) نہیں آئے۔“ اس پر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو، جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ”بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے (اور) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ وضو کی بنا پر روشن چہروں، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشرو ہوں گا، خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹائے جائیں گے، جیسے (کہیں اور کا) بھٹکا ہوا اونٹ (جو گلے کا حصہ نہیں ہوتا) پرے ہٹا دیا جاتا ہے، میں ان کی آواز دوں گا، دیکھو! ادھر آ جاؤ۔ تو کہا جائے گا، انہوں نے آپ کے بعد (اپنے قول و عمل کو) بدل لیا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 584]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لائے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”اے مومنوں کے گروہ! تم پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ مزید فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ کاش ہم نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہوتا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک دنیا میں نہیں آئے۔“ تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتائیے! اگر کسی کے روشن پیشانی اور روشن ہاتھ پاؤں والے گھوڑے (یعنی پانچ کلیان) ایسے گھوڑوں کے درمیان ہوں جو خالص سیاہ ہوں، تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان نہیں لے گا؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس وہ وضو کی بنا پر روشن چہروں اور روشن ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے یوں ہٹائے جائیں گے جیسے بھٹکا ہوا اونٹ دور ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو آواز دوں گا: خبردار! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد اپنے آپ کو بدل لیا تھا (آپ کے راستہ یا طرز عمل میں آمیزش کر دی تھی) تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 584]
ترقیم فوادعبدالباقی: 249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14008)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 249 ترقیم شاملہ: -- 585
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ جَمِيعًا، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ: فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ، عَنْ حَوْضِي.
(اسماعیل کے بجائے) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو، ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔“ (الا، یعنی خبردار کے بجائے ف، یعنی تو، کا لفظ ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 585]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”اے مومنوں کے گھروں کے باسیو! تم پر سلامتی ہو! اور جب اللہ کو منظور ہو گا، تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل جائیں گے۔“ امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: ”کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 585]
ترقیم فوادعبدالباقی: 249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما يقول اذا زار القبور او مربها برقم (3237) والنسائي في ((المجتبي)) 93/1 في الطهارة، باب: حلية الوضوء - انظر ((التحفة)) برقم (14086)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة