صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في كون الرؤيا من الله وانها جزء من النبوة
باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5897
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "،
عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں، کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا تھا، بس میں چادر نہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا، آپ نے فرمارہے تھے:”(سچا) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے، تم میں سے کوئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور (جو اس نے دیکھا) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5897]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں خواب دیکھتا تو اس سے مجھے بخار کا لرزہ ہو جاتا، لیکن مجھ پر کپڑا نہیں ڈالا جاتا تھا، حتیٰ کہ میری ملاقات حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں اپنی کیفیت بتائی تو انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”پسندیدہ اور اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پراگندہ، ڈراؤنا خواب شیطان کی طرف سے ہے، تو جب کسی کو ایسا خواب نظر آئے جو اس کو ناگوار اور ناپسندیدہ ہو تو وہ بائیں طرف تین دفعہ تھوک دے، اور اس کے شر و نقصان سے اللہ کی پناہ میں آئے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5897]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5898
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، وَيَحْيَي ابْنَيْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ،
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمن سعید کے دو بیٹوں عبدربہ اور یحییٰ اور محمد بن عمرو بن علقمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان سب نے اپنی حدیث میں ابوسلمہ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا:”میں خواب دیکھتا تھا جس سے مجھ پر بخار اور کپکپی طاری ہو جاتی تھی مگر میں چادر نہیں اوڑھتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5898]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں، لیکن اس روایت میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بیان نہیں کیا گیا: میں خواب دیکھتا، اس سے مجھے بخار کا لرزہ چڑھ جاتا، لیکن مجھ پر کپڑا نہیں ڈالا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5898]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5899
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَى مِنْهَا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: فَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں:”اس سے میں بخار اور کپکپی میں مبتلا ہو جاتا تھا۔“یونس کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں: وہ جب نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5899]
امام صاحب یہی روایت تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، دو اساتذہ کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں ہیں کہ اس سے مجھے بخار کا لرزہ چڑھ جاتا اور یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: ”جب وہ اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنے بائیں پہلو پر تین دفعہ تھوکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5899]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5900
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ جَبَلٍ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا أُبَالِيهَا.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”(سچا) خواب اللہ کی جانب سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اس (خواب) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“تو (ابوسلمہ نے) کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا، پھر یہی ہوا کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اب میں اس کی پروا نہیں کرتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5900]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے، تو جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو تین دفعہ بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں خواب کو اپنے لیے پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری خیال کرتا تھا، تو جب میں نے یہ حدیث سن لی تو اب مجھے خواب کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5900]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5901
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَإِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ: وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ.
قتیبہ اور محمد بن رمح نے لیث بن سعد سے روایت کی، محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، ان سب (لیث، عبدالوہاب ثقفی اور عبداللہ بن نمیر) نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ثقفی کی روایت میں ہے کہ ابوسلمہ نے کہا: میں خواب دیکھا کرتا تھا۔ لیث اور ابن نمیر کی روایت میں حدیث کے آخر تک ابوسلمہ کا جو قول (منقول) ہے وہ موجود نہیں، ابن رمح نے اس حدیث کی روایت میں مزید یہ کہا:”وہ جس کروٹ پر لیٹا ہوا تھا اس سے دوسری کروٹ ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5901]
امام صاحب یہی روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ثقفی کی روایت میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے: یقیناً میں خواب دیکھتا تھا، لیکن لیث اور ابن نمیر کی روایت میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا یہ سارا قول ہی موجود نہیں ہے، ابن رمح کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”وہ اس پہلو کو بدل لے، جس پر لیٹا ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5901]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5902
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ لَا تَضُرُّهُ، وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً، فَلْيُبْشِرْ وَلَا يُخْبِرْ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ ".
عمرو بن حارث نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے، جس شخص نے کوئی خواب دیکھا اور اس میں سے کوئی چیز اس کو بری لگی تو وہ (تین بار) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اور صرف اس کو بتائے جو اس سے محبت کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5902]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہے، تو جس نے خواب دیکھا اور اس کا کچھ حصہ اس پر ناگوار گزرا تو وہ بائیں طرف تھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پناہ میں آئے، وہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اس سے کسی کو آگاہ نہ کرے، کسی کو نہ بتائے اور اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو جائے اور صرف اس کو بتائے، جو اس سے محبت کرتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5902]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2261 ترقیم شاملہ: -- 5903
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ".
شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا تھا جس سے میں بیمار پڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ میری حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں بھی بعض اوقات خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:”اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو وہ صرف اس شخص کو بتائے جو (اس سے) محبت کرتا ہو اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتائے تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5903]
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: میں بھی ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو اسے صرف اسی کو بتائے جس سے وہ محبت کرتا ہے، اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکے اور شیطان کے شر سے اور خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتائے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5903]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة