صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب في معجزات النبي صلى الله عليه وسلم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5941
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا، میں (اپنی آنکھوں سے) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5941]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو آپ کے پاس ایک کھلا پیالا لایا گیا تو لوگ وضو کرنے لگے، میں نے اندازہ لگایا،وہ ساٹھ اور اسی کے درمیان تھے۔ اور میں پانی کو دیکھنے لگا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5941]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5942
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انہیں نہ ملا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا۔ کہا: تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک (اس سے) وضو کر لیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5942]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ عصر کی نماز کا وقت قریب آ چکا تھا، لوگوں نے پانی تلاش کیا اور وہ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا، سو آپ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو اس سے وضو کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا، پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا ہے، لوگ وضو کرنے لگے حتیٰ کہ آخری فرد تک نے وضو کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5943
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ، قَالَ: وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ، وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ: كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِ مِائَةِ ".
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (مقام) زوراء میں تھے (اور زوراء مدینہ میں مسجد اور بازار کے نزدیک ایک مقام ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کر لیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوحمزہ! اس وقت آپ کتنے آدمی ہوں گے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تین سو کے قریب تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5943]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھی زوراء مقام پر تھے (اور زوراء مدینہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے) آپ نے پانی کا پیالہ طلب کیا اور اس میں آپ نے اپنی ہتھیلی رکھ دی تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا سو آپ کے تمام ساتھیوں نے وضو کرلیا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں، میں نے پوچھا،اے ابوحمزہ! ان کی تعداد کتنی تھی؟ جواب دیا، وہ تین سو کے قریب تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5944
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ بِالزَّوْرَاءِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ.
سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے، آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، وہ آپ کی انگلیوں کے اوپر تک بھی نہیں آتا تھا (جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں) یا اس قدر تھا کہ (شاید) آپ کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا۔ پھر ہشام کی حدیث کی طرح بیان کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5944]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زوراء جگہ پر تھے تو پانی کا ایک برتن لایاگیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا وہ آپ کی انگلیوں کو چھپانے کے بقدر تھا، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة