صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب شفقته صلى الله عليه وسلم على امته ومبالغته في تحذيرهم مما يضرهم:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر کیسی شفقت تھی، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5955
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ ".
مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو حشرات الارض اور پتنگے اس آگ میں گرنے لگے۔ تو میں تم کو کمر سے پکڑ کر روکنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے جا رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5955]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس میری مثال اور میری اُمت کی مثال یعنی ہماری تمثیل اس آدمی کی مثال ہے، جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے، سو میں تمھیں کمروں سے پکڑرہا ہوں اورتم اس میں چھلانگیں لگارہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5956
وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5956]
امام صاحب کو یہی روایت دو اوراساتذہ نے سنائی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ، وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا "، قَالَ: فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا.
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے گرد روشنی ہوئی تو اس میں کیڑے اور یہ جانور جو آگ میں ہیں، گرنے لگے اور وہ شخص ان کو روکنے لگا، لیکن وہ نہ رکے اور اس میں گرنے لگے۔ یہ مثال ہے میری اور تمہاری، میں تمہاری کمر پکڑ کر جہنم سے روکتا ہوں اور کہتا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم نہیں مانتے اسی میں گھسے جاتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5957]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”میری مثال، اس آدمی کی مثال ہے، جس نے آگ جلائی، جب آگ سے اس کا اردگرد روشن ہوگیا تو پروانے اور یہ پتنگے اس آگ میں گرنے لگے اور وہ ان کو روکنے لگا اور وہ اس پر غالب آکر اس میں گھسنے لگے، آپ نے فرمایا، یہ میری اور تمہاری تمثیل ہے، میں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں سے پکڑے ہوئے ہوں، آگ سے ادھر آؤ، آگ سے ادھرآؤ، سو تم مجھ سے غالب آکر، میرے قابو سے نکل کر،آگ میں چھلانگیں ماررہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة