صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الاستطابة:
باب: استنجاء کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 266 ترقیم شاملہ: -- 611
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي، انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، يَقُولُ نَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ، فَلَا تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَلَا بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں اپنی بہن (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر (کی چھت) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تھے، شام کی طرف رخ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 611]
واسع بن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلہ کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، تو جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی، ایک طرف سے ان کی طرف مڑا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں جب تم اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بیٹھو، تو قبلہ کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر (بیت المقدس کی طرف رخ کر کے) بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: من تبرز على لبنتين برقم (145) مطولا وفي باب: التبرز فى البيوت برقم (148 و 149) وفى فرض الخمس، باب: ما جاء في بيوت ازواج النبي صلی اللہ علیہ وسلم و ما نسب اليهن برقم (3102) وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: الرخصة في ذلك برقم (12) والترمذى فى جامعه فى الطهارة - باب ماجاء في الرخصة في ذلك برقم 13 - وقال: حديث حسن صحيح - والنسائي في ((المجتبى من السنن)) 23/1 في الطهارة، باب: الرخصة في ذلك في البيوت وابن ماجه فى ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: الرخصه في ذلك وتكنيف، وإباحته دون الصحارى برقم (322) مطولا - انظر (التحفة) برقم (8552)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 266 ترقیم شاملہ: -- 612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ ".
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کچھ لوگ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو، جو بھی ہو، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 612]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ میں اپنی بہن حفصہ کے گھر کی پشت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے شام کی طرف رخ کر کے، قبلہ کو پشت کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (610)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة