🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب الاِسْتِطَابَةِ:
باب: استنجاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 262 ترقیم شاملہ: -- 606
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَي وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ لَقَدْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ".
اعمش کے دو شاگرد وکیع اور ابومعاویہ کی سندوں سے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ الفاظ ابومعاویہ کے شاگرد یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں) کہ ان (سلمان رضی اللہ عنہ) سے (طنزاً) کہا گیا: تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت (کے طریقے) کی بھی۔ کہا: انہوں نے جواب دیا: ہاں (ہمیں سب کچھ سکھایا ہے،) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یا ہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 606]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ان سے (طنزاً) پوچھا گیا: کہ تمہارے نبی نے تم لوگوں کو سب باتوں کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ پاخانہ کرنے کا طریقہ بھی (سکھایا ہے)، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! (ہمیں سب کچھ سکھایا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، کہ ہم پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کریں، یا یہ کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا یہ کہ ہم استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں، یا یہ کہ ہم استنجا کریں کسی چوپائے کے فضلے (گوبر) یا ہڈی سے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 606]
ترقیم فوادعبدالباقی: 262
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) فى الطهارة، باب: كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة برقم (7) مطولا - والترمذى فى ((جامعه)) في الطهارة، باب: الاستنجا بالحجارة وقال: و حدیث سلمان في هذا الباب حديث حسن صحيح برقم (16) والنسائي في ((المجتبى من السنن)) في الطهارة، باب: النهي عن الاكتفاء في الاستطابة۔۔۔ 38/1 وفي 44/1 باب: النهي عن الاستنجا باليمين - وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: الاستنجا بالحجارة والنهي عن الروث والرمة برقم (316) مطولا - انظر ((التحفة)) برقم (4505)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 262 ترقیم شاملہ: -- 607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ: " إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، فَقَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ".
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے، ان دونوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مشرکوں نے ہم سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی (ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، انہوں نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی (سے استنجا کرنے) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 607]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ہمیں (بعض) مشرکوں نے کہا: میرا خیال ہے، تمہارا ساتھی تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتاتا ہے، تو اس (سلمان رضی اللہ عنہ) نے کہا: ہاں! انہوں نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے، یا قبلہ کی طرف منہ کرے، اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 607]
ترقیم فوادعبدالباقی: 262
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (605)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 263 ترقیم شاملہ: -- 608
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ، أَوْ بِبَعْرٍ ".
ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا لید کے ذریعے سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 608]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا مینگنی (لیڈنا) سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 263
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: ما ينهی عنه ان يستنجي به برقم (38) انظر ((التحفة)) برقم (2709)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 264 ترقیم شاملہ: -- 609
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، بِبَوْلٍ، وَلَا غَائِطٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا، أَوْ غَرِّبُوا "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، قَالَ: نَعَمْ.
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی (الفاظ انہی کے ہیں) کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا: کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے؟ (سفیان نے) کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 609]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قضائے حاجت کرنے لگو، تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو! اور نہ اس کی طرف پشت کرو، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ، لیکن مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم شام گئے، تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے پائے، تو ہم ان سے انحراف کرتے (پہلو بدلتے) اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 264
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الوضوء، باب: لا تستقبل القبلة بغائط او بول، الا عند البناء جدار او نحوه برقم (1404) وفى الصلاة، باب: قبل اهل المدينة واهل الشام والمشرق برقم (394) مطولا - وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، في باب: كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة برقم (9) مطولا - والترمذي في ((جامعه)) في الطهارة، باب: النهي عن استدبار القبلة بغائط او بول برقم (8) مطولا والنسائي في ((المجتبى من السنن)) في الطهارة، باب: الامر باستقبال المشرق او المغرب عند الحاجة 1/ 23 - وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: النهي عن استقبال القبلة، بالغائط والبول برقم (318) بنحوه انظر ((التحفة)) برقم (3478)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 265 ترقیم شاملہ: -- 610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 610]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے، اور نہ اس کی طرف پشت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 610]
ترقیم فوادعبدالباقی: 265
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12858)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 266 ترقیم شاملہ: -- 611
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي، انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، يَقُولُ نَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ، فَلَا تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَلَا بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں اپنی بہن (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر (کی چھت) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تھے، شام کی طرف رخ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 611]
واسع بن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلہ کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، تو جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی، ایک طرف سے ان کی طرف مڑا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں جب تم اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بیٹھو، تو قبلہ کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر (بیت المقدس کی طرف رخ کر کے) بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: من تبرز على لبنتين برقم (145) مطولا وفي باب: التبرز فى البيوت برقم (148 و 149) وفى فرض الخمس، باب: ما جاء في بيوت ازواج النبي صلی اللہ علیہ وسلم و ما نسب اليهن برقم (3102) وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: الرخصة في ذلك برقم (12) والترمذى فى جامعه فى الطهارة - باب ماجاء في الرخصة في ذلك برقم 13 - وقال: حديث حسن صحيح - والنسائي في ((المجتبى من السنن)) 23/1 في الطهارة، باب: الرخصة في ذلك في البيوت وابن ماجه فى ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: الرخصه في ذلك وتكنيف، وإباحته دون الصحارى برقم (322) مطولا - انظر (التحفة) برقم (8552)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 266 ترقیم شاملہ: -- 612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ ".
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کچھ لوگ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو، جو بھی ہو، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 612]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ میں اپنی بہن حفصہ کے گھر کی پشت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے شام کی طرف رخ کر کے، قبلہ کو پشت کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (610)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں