صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب توقيره صلى الله عليه وسلم وترك إكثار سؤاله عما لا ضرورة إليه او لا يتعلق به تكليف وما لا يقع ونحو ذلك:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6119
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي وألفاظهم متقاربة، قَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالَ: فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ، قَالَ: غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، قَالَ: فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي، قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور کہا: "جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی (تفصیلات) کبھی نہیں دیکھیں۔ جو میں جانتا ہوں، اگر تم (بھی) جان لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا۔ کہا: انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ کہا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ کہا: ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پوچھا: میرا باپ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ فلاں تھا۔" اس پر آیت اتری: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6119]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اپنے ساتھیوں کی کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”مجھ پر جنت اور جہنم پیش کی گئیں، سو میں نے آج جیسا اچھا اور برا منظر نہیں دیکھا اور اگر تم وہ جان لو، جو میں جانتا ہوں تو ہنسو کم (بالکل نہ ہنسو) اور زیادہ روؤ، (روتے رہو۔)“ حضرت انس کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر اس سے زیادہ سنگین دن نہیں آیا، انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ہچکیاں لے کر رونے لگے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا، ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اور اسلام کے دستور زندگی اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے پر مطمئن ہیں، وہی آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا، میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ فلاں ہے۔“ اس پر یہ آیت اتری، ”اے ایمان دارو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں رنج پہنچے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6120
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، وَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 تَمَامَ الْآيَةِ ".
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تیرا باپ فلاں ہے۔" پھر یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" مکمل آیت پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6120]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کےرسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرا باپ کون ہے؟ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”تیرا باپ فلاں ہے،“ اور آیت اتری، ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمھیں ناگوار ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6121
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ، فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، بَرَكَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ: مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ، أَعَقَّ مِنْكَ، أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ، لَلَحِقْتُهُ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوں گے، پھر فرمایا: "جو شخص (ان میں سے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوال کر لے۔ اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کر دیا: "مجھ سے پوچھو" تو لوگ بہت روئے، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ تھا۔" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بار "مجھ سے پوچھو" فرمانا شروع کیا (اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اور شر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔" ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (کی یہ بات سن کر ان) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے تمھاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہو گیا ہو جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہو جاتا تھا تو تم اس طرح (سوال کر کے) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کر دیتے؟ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کر لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6121]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سورج ڈھل گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہو گئے اور قیامت کا تذکرہ کیا اور بتایا، اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات ظاہر ہوں گے، پھر فرمایا: ”جو مجھ سے کسی چیزکے بارے میں سوال کرنا چاہے، وہ مجھ سے ا س کے بارے میں پوچھے، سو اللہ کا قسم! تم مجھ سے جس کے بارےمیں بھی سوال کرو گے، جب تک میں یہاں اس جگہ ہوں، اس کے بارےمیں، میں تمہیں بتا دوں گا، “حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو بہت روئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت یہ فرمایا: ”مجھ سے پوچھ لو۔“ تو حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور پوچھا میرا باپ کون ہے؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذافہ“ توجب رسول اللہ نےبار بار یہ فرمایا: ”مجھ سے پوچھ لو۔“ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے، ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے ضابظۂ حیات ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ومطمئن ہیں تو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ الفاظ کہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہلاکت قریب تھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، ابھی اس دیوار کی چوڑائی میں میرے سامنے جنت او ردوزخ پیش کی گئی، سو میں نے آج جیسا خیرو شر کا منظر نہیں دیکھا۔“ ابن شہاب کہتے ہیں، مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ سے کہا، میں تجھ جیسا نافرمان بیٹا کبھی نہیں سنا، کیا تم اس بات سے بے خوف تھے کہ تیری ماں نے کسی ایسی حرکت کا ارتکاب کیا ہو جس کا ارتکاب جاہلیت میں عورتیں کرتی تھیں، اس طرح تم اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتے،حضرت عبداللہ بن حذافہ نے کہا، اللہ کی قسم! اگر مجھے حبشی کا بچہ قرار دیتے تو میں اس کے ساتھ منسوب ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6122
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا، قَالَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اور اس کے ساتھ عبیداللہ کی حدیث بیان کی، البتہ شعیب نے کہا: زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، کہا مجھے علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: جس طرح یونس کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6122]
امام صاحب نے مذکورہ بالاحدیث اپنے دو اساتذہ کی سند سے بیان کی ہے، مگر شعیب کی روایت میں یہ ہے،عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا، مجھے اہل علم میں سے ایک آدمی نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ کی والدہ نے کہا، آگے مذکورہ بالا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6123
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: سَلُونِي، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا، وَرَهِبُوا، أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ، كَانَ يُلَاحَى، فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ ".
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہت زیادہ اور بے فائدہ) سوالات کیے حتیٰ کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سوالات سے تنگ کر دیا، تو ایک دن آپ باہر تشریف لائے، منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: "اب مجھ سے (جتنے چاہو) سوال کرو، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے، میں تم کو اس کا جواب دوں گا۔" جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنے منہ بند کر لیے اور سوال کرنے سے ڈر گئے کہ کہیں یہ کسی بڑے معاملے (وعید، سزا سخت حکم وغیرہ) کا آغاز نہ ہو رہا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا تھا تو مسجد میں سے وہ شخص اٹھا کہ جب (لوگوں کا) اس سے جھگڑا ہو تا تھا تو اسے اس کے باپ کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا (ابن فلاں! کہہ کر پکارا جاتا تھا) اس نے کہا: اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہم اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مان کر راضی ہیں اور ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خیر اور شر میں جو کچھ میں نے آج دیکھا ہے کبھی نہیں دیکھا۔ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت گری کی گئی تو میں نے اس (سامنے کی) دیوار سے آگے ان دونوں کو دیکھ لیا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6123]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیے، حتی کہ آپ سےسوالات پر اصرار کیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنگ پڑ گئے) تو آپ ایک دن تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا: ”مجھ سے سوال کرلو، تم مجھ سے جو بھی سوال کرو گے، جس چیز کے بارے میں پوچھوگے، میں اس کی حقیقت کھول دوں گا۔ “جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ چپ ہو گئے او رڈر گئے کہ کہیں یہ کسی عذاب کا پیش خیمہ نہ ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر آدمی اپنے کپڑے میں سر لپیٹ کر رو رہا تھا تو ایک آدمی نے مسجد سے آغاز کیا، جس سے لوگ جھگڑتے تو اس کی نسبت باپ کے سوا کسی اور کی طرف کرتے تو اس نے کہا، اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”حذافہ“ پھر حضرت عمربن خطاب کہنے لگے، ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دستور زندگی ہونے، اور محمد کے رسول ہونے پر خوش ہیں اور اللہ سے برے فتنوں سے پناہ چاہتے ہیں، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خیر و شر کا آج کی طرح نظارہ کبھی نہیں کیا، میرے لیے جنت اور دوزخ کی تصویر کشی کی گئی ہے او رمیں نے انہیں اس دیوار کے ورے دیکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2359 ترقیم شاملہ: -- 6124
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
ہشام اور معمر کے والد سلیمان دونوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6124]
امام صاحب اپنے تین اوراساتذہ سے مذکورہ بالا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة