صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب من فضائل علي بن ابي طالب رضي الله عنه:
باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6217
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، قَالَ سَعِيدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِهَا سَعْدًا، فَلَقِيتُ سَعْدًا: فَحَدَّثْتُهُ بِمَا حَدَّثَنِي عَامِرٌ، فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ، فَقُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَإِلَّا فَاسْتَكَّتَا.
سعید بن مسیب نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ سعید بن مسیب نے کہا: میں نے چاہا کہ یہ بات میں خود حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے منہ سے سنوں تو میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور جو حدیث مجھے عامر نے سنائی تھی، ان کے سامنے بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود) یہ بات سنی تھی، میں نے کہا: آپ نے خود سنی تھی؟ کہا: تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے دونوں کانوں پر رکھیں اور کہا: ہاں، ورنہ (اگر یہ بات نہ سنی ہو) تو ان دونوں کو سنائی نہ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6217]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:"تم میرے ایسے ہو،جیساکہ موسیٰ ؑ کےلیے ہارون تھے،مگر یہ بات ہے،میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔"حضرت سعید کہتے ہیں،یہ روایت میں نے عامر بن سعد سے سنی تھی،اس لیے میں نے چاہا کہ یہ روایت میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روبروسن لوں،سو میری ملاقات حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں،عامر کی حدیث سنائی،انھوں نے کہا،میں نے یہ سنی ہے،پھر میں نے کہا،کیا آپ نے سنی ہے؟تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھیں اور کہا،ہاں،اگر نہ سنی ہوتویہ کان بہرے ہوجائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6218
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: " خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ".
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) خلیفہ بنایا، تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہارون علیہ السلام کا تھا، لیکن میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6218]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے چھوڑا تو انہوں نے عرض کیا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑرہے ہیں تو آپ نے فرمایا:"کیاآپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ تمھیں مجھ سے وہی نسبت ہوجونسبت ہارون ؑ کو موسیٰ ؑ سے تھی،ہاں یہ بات ہے،میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6219
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6219]
یہی روایت امام صاحب کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6220
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا، قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَهُ: خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا، فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.
بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کو برا کہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے کہی تھیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لیے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ان سے (اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے؟“ اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اب میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ کہا: پھر ہم نے اس بات (کے مصداق جاننے) کے لیے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر (ہر طرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کو میرے پاس بلاؤ۔“ انہیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا۔ آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا۔ اور جب یہ آیت اتری: «فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ» ”(تو آپ کہہ دیں: آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6220]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عامر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیرمقررکیا تو پوچھا،تمہیں ابوتراب کو خطاکاردینے سے کون سی چیزروکتی ہے؟توانھوں نے جواب دیا:جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان(حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے کہی تھیں،میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا۔ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہوتو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا،آپ ان سے(اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جارہے تھے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا تھا:اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:"تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جوحضرت ہارون ؑ کاموسیٰ ؑ کےساتھ تھا،مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔"اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سناتھا:"اب میں جھنڈ ا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا ر سول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔"کہا:پھر ہم نے اس بات (مصداق جاننے) کے لئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر(ہرطرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"علی کو میرے پاس بلاؤ۔"انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا۔آپ نےان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اورجھنڈا انھیں عطافرمادیا۔اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کردیا۔اورجب یہ آیت اتری:"(تو آپ کہہ دیں:آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلالیں۔(آل عمران،نمبر 61)"تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ،اورحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا:"اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ".
ابراہیم بن سعد نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے؟“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6221]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:"کیاتم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسی ہو،جیسی ہارون کی موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة