صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب من فضائل علي بن ابي طالب رضي الله عنه:
باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6225
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: " انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ، قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي: وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ، فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ، وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ، فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ ".
زہیر بن حرب اور شجاع بن مخلد نے اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوحیان نے حدیث بیان کی، کہا: یزید بن حیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم (تینوں) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا: زید! آپ کو خیر کثیر حاصل ہوئی، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، ان کی بات سنی، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں۔ زید! آپ کو خیر کثیر حاصل ہوئی۔ زید! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی (کوئی) حدیث سنائیے۔ (حضرت زید رضی اللہ عنہ نے) کہا: بھتیجے! میری عمر زیادہ ہو گئی، زمانہ بیت گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں، اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو اور جو (بیان) نہ کر سکوں تو اس کا مجھے مکلف نہ ٹھہراؤ۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا: ”اس کے بعد اے لوگو! میں آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔“ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: ”دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں،“ تین بار فرمایا۔ اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6225]
حضرت یزید بن حیان بیان کرتے ہیں کہ میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا: ”اے زید! آپ کو خیرِ کثیر حاصل ہوئی، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ کی بات سنی، آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور آپ کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں، اے زید! آپ کو خیرِ کثیر حاصل ہوئی، اے زید! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی (کوئی) حدیث سنائیے۔“ (حضرت زید رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”بھتیجے! میری عمر زیادہ ہو گئی، زمانہ بیت گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث مجھے یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں، لہٰذا جو میں بیان کروں اسے قبول کرو اور جو (بیان) نہ کر سکوں تو اس کا مجھے مکلف نہ ٹھہراؤ۔“ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی پر ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”امّا بعد! اے لوگو! میں تو بس ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا پیغامبر (موت کا فرشتہ) آئے اور میں اسے قبول کر لوں، میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ کی کتاب کو تھامے رکھو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔“ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی اور اس کی ترغیب دی، پھر فرمایا: ”اور (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔“ حصین نے پوچھا: اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں، لیکن (خاص) اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ (زکوٰۃ) حرام ہے۔ حصین نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ علی کی آل، عقیل کی آل، جعفر کی آل اور عباس کی آل (رضی اللہ عنہم) ہیں۔ حصین نے پوچھا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6226
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز (سعید بن مسروق نے) ان (ابوحیان) کی حدیث کے مانند زہیر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6226]
امام صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ایک اور استاد سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6227
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں محمد بن فضیل نے حدیث بیان کی، اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے خبر دی، ان دونوں (محمد بن فضیل اور جریر) نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ اسماعیل کی حدیث کے مانند بیان کیا اور (اسحاق بن ابراہیم نے) جریر کی روایت میں مزید یہ بیان کیا: ”اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اور نور ہے، جس نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا اور اسے لے لیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ گمراہ ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6227]
امام صاحب دو اور اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت اور روشنی ہے، جس نے اس کو مضبوطی سے تھاما اور اس پر عمل کیا، وہ ہدایت یافتہ ہوا اور جو اس سے چوک گیا، وہ گمراہ ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَفِيهِ، فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا، فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ، وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ.
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ان (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ان سے عرض کی: آپ نے بہت خیر دیکھی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں، اور پھر ابوحیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”دیکھو، میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب ہے وہ اللہ کی رسی ہے جس نے (اسے تھام کر) اس کا اتباع کیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا: آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ (صرف) آپ کی ازواج؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ (بھی) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6228]
یزید بن حیان بیان کرتے ہیں کہ ہم زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کی: آپ نے بہت خیر دیکھی ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، اور پھر ابو حیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”دیکھو، میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب ہے، وہ اللہ کی رسی ہے، جس نے (اسے تھام کر) اس کی اتباع کی وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا: آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ (صرف) آپ کی ازواج؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ (بھی) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة