صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب فضائل حسان بن ثابت رضي الله عنه:
باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2489 ترقیم شاملہ: -- 6393
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ حَسَّانُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ؟ قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ، فَقَالَ حَسَّانُ: وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ، قَصِيدَتَهُ هَذِهِ.
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے ابوسفیان (مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہوگا؟“ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی! میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہر نکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتا ہے، پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ قصیدہ کہا: اور آل ہاشم میں سے عظمت و مجد کی چوٹی پر وہ ہیں جو بنت مخزوم (فاطمہ بنت عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم) کی اولاد ہیں (ابوطالب، عبداللہ اور زبیر) اور تیرا باپ تو غلام (کنیز کا بیٹا) تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6393]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،حضرت حسان نے کہا،اےاللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )!مجھے ابوسفیان کے بارے میں اجازت دیں،آپ نے فرمایا:"اس کے ساتھ جومیری رشتہ داری ہے،اس کا کیاکروگے؟"اس نے کہا،اس ذات کی قسم،جس نےآپ کو عزت بخشی،میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا،جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیاجاتا ہے،پھر حضرت حسان نے یہ قصیدہ کہا،جس کا آغاز یوں ہے:"بزرگی اور شرافت،آل ہاشم سے مخزوم کی اولاد کو حاصل ہے اورتیرا باپ تو غلام ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2489
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2489 ترقیم شاملہ: -- 6394
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سُفْيَانَ، وَقَالَ: بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ.
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی۔ اور (عبدہ نے) ابوسفیان کا ذکر نہیں کیا اور خمیر کے بجائے گندھا ہوا آٹا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6394]
امام صاحب ایک اور استاد سے نقل کرتے ہیں،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی ہجو کی اجازت مانگی،ابوسفیان کانام نہیں لیا اور خمیر کی جگہ"عجين"کہا،(معنی دونوں کاایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2489
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة