صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
52. باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم:
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2535 ترقیم شاملہ: -- 6475
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ "، قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِي، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوجمرہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں۔“ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو بار فرمایا یا تین بار؟ (پھر آپ نے فرمایا:) ”پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہو گی اور خیانت کریں گے جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا (جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہو گی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6475]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں،پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں۔پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں،پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں،"حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دوبار فرمایا یا تین بار؟(پھر آپ نے فرمایا:)"پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہوگی اورخیانت کریں جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا(جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہوگی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)،وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2535 ترقیم شاملہ: -- 6476
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمْ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، وَجَاءَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَى فَرَسٍ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَي، وَشَبَابَةَ: يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ، وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ: يُوفُونَ كَمَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ.
یحییٰ بن سعید، بہز اور شبابہ سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں ہے (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا، شبابہ کی حدیث میں ہے کہ (ابوجمرہ نے) کہا: میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس ایک کام کے لیے آئے تھے، انہوں نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، نیز یحییٰ (بن سعید) اور شبابہ کی حدیث میں ہے: ”وہ نذریں مانیں گے لیکن وفا نہیں کریں گے۔“ اور بہز کی حدیث میں اسی طرح ہے جس طرح ابن جعفر کی حدیث میں ہے: ”وہ (اپنی نذریں) پوری نہیں کریں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6476]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے شعبہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں،اس حدیث میں ہے،میں نہیں جانتا،آپ نے اپنی قرن کے بعد دو قرنوں(جماعتوں) کاتذکرہ فرمایا یا تین کا،شبابہ کہتے ہیں،میں نے یہ حدیث زہدم بن مضرب سے سنی،جبکہ وہ ایک ضرورت کے تحت گھوڑے پر سوار ہوکرآیاتھا،یحییٰ اور شبابہ کی روایت میں ہے،"وہ نذر مانیں گے اورپوری نہیں کریں گے اور بہز کی روایت میں "يَفُونَ"کی جگہ "يُوفَونَ" ہے جیسا کہ ابن جعفر کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2535 ترقیم شاملہ: -- 6477
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ، عَنْ عِمْرَانَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ.
ابوعوانہ اور ہشام دونوں نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث (ان الفاظ میں) روایت کی: ”اس امت کے بہترین لوگ اس دور کے ہیں جس میں مجھے ان میں بھیجا گیا ہے، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے۔“ ابوعوانہ کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے) کہا: اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے (دور) کا ذکر کیا یا نہیں، جس طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے زہدم کی روایت کردہ حدیث ہے۔ اور قتادہ سے ہشام کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”وہ قسمیں کھائیں گے جبکہ ان سے قسم کھانے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6477]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کرتے ہیں،"اس اُمت کی بہترین قرن وہ ہے،جس میں مبعوث کیاگیاہے،پھر جو لوگ ان سے متصل ہوں گے۔"ابوعوانہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے،انہوں نے کہا،اللہ ہی خوب جانتا ہے،آپ نے تیسری قرن کا ذکر فرمایا یانہیں،ہشام،قتادہ سے یہ اضافہ کرتے ہیں،"وہ قسم اُٹھائیں گے اور ان سے قسم کامطالبہ نہیں کیاگیا ہوگا۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة