صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب حكم ولوغ الكلب:
باب: کتے کے جھوٹے کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 280 ترقیم شاملہ: -- 653
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُهُمْ، وَبَالُ الْكِلَابِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ ".
عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں میرے والد نے، انہیں شعبہ نے ابوالتیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی۔ اور انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا، ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟“ پھر (لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر) شکار اور بکریوں (کی حفاظت کرنے) والے کتے (رکھنے) کی اجازت دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں بار (زیادہ روایات میں ہے ایک بار) مٹی سے صاف کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 653]
حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”ان کتوں سے کیا ربط و تعلق؟“ پھر شکاری کتے اور بکریوں کے لیے کتے کی رخصت دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے صاف کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 280 ترقیم شاملہ: -- 654
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: مِنَ الزِّيَادَةِ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَالصَّيْدِ، وَالزَّرْعِ، وَلَيْسَ ذَكَرَ: الزَّرْعَ، فِي الرِّوَايَةِ غَيْرُ يَحْيَى.
(خالد) بن حارث، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی۔ یحییٰ کے سوا «زرع» (کھیتی) کا ذکر کسی روایت میں نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بکریوں کی حفاظت، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی“، یحییٰ رحمہ اللہ کے سوا «الزَّرْعِ» (کھیتی) کا ذکر کسی نے نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة