صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب من لعنه النبي صلى الله عليه وسلم او سبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك كان له زكاة واجرا ورحمة:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6617
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَأَجْرًا.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مانند روایت کی مگر اس میں ”پاکیزگی اور اجر“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6617]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صرف یہ فرق ہے کہ اس میں «رَحْمَة» کی جگہ «أَجْر» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6617]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر عیسیٰ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ”بنا دے“ اور ”اجر“ کے لفظ ہیں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ”بنا دے“ اور ”رحمت“ کے لفظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6618]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ رحمہ اللہ نے ”اجر“ کا لفظ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں کہا ہے اور ”رحمت“ کا لفظ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6625
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، آپ فرماتے تھے: ”میں ایک بشر ہی ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد لیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب و شتم کروں تو یہ سب کچھ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر (کا سبب) بن جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6625]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میں بشر ہی تو ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل کے ساتھ یہ طے کیا ہے کہ جس مسلمان بندے کو میں برا بھلا کہوں، یا اس سے سخت کلامی کروں، یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی اور اجر بنے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6626
حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
روح اور ابوعاصم دونوں نے ہمیں ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6626]
یہی روایت امام صاحب دو اور سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة