صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7035
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ "، لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ.
اسود بن عامر نے کہا: ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اپنے اس کام پر غور و فکر کیا جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا ہے (ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کے مخالفین سے جنگ تک کی ہے) یہ آپ کے اپنے غور و فکر سے اختیار کی ہوئی آپ کی رائے تھی یا ایسی چیز تھی جس کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے سپرد کی تھی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی ذمہ داری ہمارے سپرد نہیں کی جو انہوں نے تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے بارہ افراد منافق ہیں، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے (کبھی داخل نہیں ہوں گے)، ان میں آٹھ ایسے ہیں (کہ ان کے شر سے نجات کے لیے ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہونے والا سرخ) پھوڑا تمہاری نجات کے لیے تمہیں کفایت کرے گا۔ اور چار۔“ (آگے کا حصہ) مجھے (اسود بن عامر کو) یاد نہیں کہ شعبہ نے ان (چار) کے بارے میں کیا کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7035]
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا: بتائیے! آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں جو وطیرہ (مددو نصرت) اپنایا، کیا یہ طرز عمل تمھاری اپنی سوچ تھی جو تم نے سوچی یا ایسی چیز جس کی تلقین تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی؟ تو انھوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایسی چیز کی تلقین نہیں فرمائی جس کی تاکید سب لوگوں کو نہ کی ہو، لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں منافق ہیں (یعنی میرے ماننے والوں میں سے)، ان میں سے آٹھ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ سے نہ گزر جائے، ان میں سے آٹھ کے لیے «الدُّبَيْلَةُ» (پیٹ کا پھوڑا) کافی ہو گا اور چار“ کے بارے میں مجھے یاد نہیں ہے (یعنی اسود کو) کہ شعبہ نے کیا کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7036
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ فِي أُمَّتِي، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: أُرَاهُ قَالَ: " فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ ".
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غور و فکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی (خصوصی) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو۔ اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بے شک میری امت میں بارہ منافق ہیں، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں (کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح (اوپر سے سرک) ہو گا، ان کے کندھوں میں ظاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7036]
قیس بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، لڑائی میں حصہ لینے کے بارے میں بتائیں، کیا یہ تمھاری سوچ تھی، جو تم نے سوچی؟ کیونکہ رائے خطا بھی ہو سکتی ہے اور راست بھی، یا یہ تلقین تھی جو تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی؟ تو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایسی چیز کی تلقین نہیں کی، جس کی تلقین سب لوگوں کو نہ کی ہو، اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں۔“ شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا، مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا، غندر کہتے ہیں میرا خیال ہے، آپ نے فرمایا: ”میری امت میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور نہ اس کی مہک محسوس کریں گے، ﴿حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [سورة الأعراف: 40] (حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہو جائے)۔ ان میں سے آٹھ کے لیے «دَبِيلَةٌ» ”دبیلہ“ کافی ہو گا۔“ یعنی آگ کا چراغ جو ان کے کندھوں میں ظاہر ہو گا حتیٰ کہ ان کے سینوں میں پھوٹے گا۔ یعنی سینوں سے نکلے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7037
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ ".
ولید بن جمیع نے کہا: ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ (حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے) کہا: لوگوں نے اس سے کہا: جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ۔ (پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے) کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور (آخرت میں بھی) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے، آپ چل پڑے اور فرمایا: ”پانی کم ہے، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں پہنچ کر) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7037]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ تبوک کی گھاٹی والوں میں سے ایک کا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا جیسا کہ لوگوں میں ہو ہی جاتا ہے، تو اس نے کہا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اہل عقبہ کتنے اشخاص تھے؟ تو لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب یہ آپ سے پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتا دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ لوگ پندرہ ہو گئے، اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں ان میں سے بارہ وہ ہیں جو دنیا میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والے ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کی معذرت قبول فرمائی، انھوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور نہ ہمیں پتا تھا ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنگریزوں میں چل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے تھوڑا سا پانی آنے والا ہے تو مجھ سے پہلے اس پر کوئی نہ پہنچے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پانی پر پہنچ چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت بھیجی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة