🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب سؤال اليهود النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح وقوله تعالى: {يسالونك عن الروح} الآية:
باب: یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو وحی الٰہی کے مطابق جواب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2795 ترقیم شاملہ: -- 7062
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ، فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ، قَالَ وَكِيعٌ: كَذَا، قَالَ الْأَعْمَشُ: قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا سورة مريم آية 77 - 80 "،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت خباب (بن ارت رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا: میں اس وقت تک تمہیں ادائیگی نہیں کروں گا۔ یہاں تک کہ تم نعوذ بالله محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرو۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تم مر کر دوبارہ زندہ ہو جاؤ گے۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ تو (اس وقت) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گا تو تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ وکیع نے کہا: اعمش نے اسی طرح کہا: انہوں نے کہا: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا» کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا: مجھے (اپنا) مال اور (اپنی) اولاد لازماً دی جائے گی سے لے کر اس (اللہ) کے فرمان «وَيَأْتِينَا فَرْدًا» اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا تک۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7062]
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میرا عاص بن وائل کے ذمہ قرض تھا، اس کے پاس اس کا مطالبہ کرنے کے لیے گیا تو اس نے مجھے کہا، میں اس وقت تک ہر گز تیرا قرض ادا نہیں کروں گا، جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کروتو میں نے اسے کہا، میں ہر گز محمد کا انکار نہیں کروں گا، حتی کہ تو مرجائے اور پھر دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا، کیا مجھے موت کے بعد اٹھایاجائے گا؟تو اس وقت تیرا قرض چکا دوں گا، جب میں مال اور اولاد کی طرف لوٹ آؤں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی،کیا آپ نے اس کے بارے میں جانا، جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہتا ہے مجھے مال اور اولاد سے نوازا جائے گا، کیا وہ غیب سے آگا ہو گیا ہے، یا اس نے رحمان سے کوئی عہد کر لیا ہے، ہر گز نہیں جو کچھ وہ کہتا ہے ہم اس کو لکھ لیں گے اور اس کا عذاب بڑھا دیں گے اور جس کی یہ بات کرتا ہے، اس کے وارث تو ہم ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔"(مریم آیت 77تا 80) [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7062]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2795 ترقیم شاملہ: -- 7063
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ.
ابومعاویہ، عبداللہ بن نمیر، جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے۔ (حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے (اجرت کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7063]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جریر رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث میں ہے۔ میں جاہلیت کے دور میں لوہارتھا تومیں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا(تلوار بنا کردی) تو میں اس کی مزدوری کے مطالبہ کے لیے اس کے پاس آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7063]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں