صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب مثل المؤمن مثل النخلة:
باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2811 ترقیم شاملہ: -- 7098
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَقَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، قَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ".
عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ تو لوگوں نے جنگل کے مختلف درختوں کی طرف دھیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ (لوگ) کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیے کہ وہ کون سا (درخت) ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میں نے یہ (بات اپنے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ (جواب) فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7098]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بلا شبہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے، جس کے پتے گرتے نہیں ہیں۔اور وہ مسلمان کی طرح (فیض رساں) ہے تو مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟"لوگ جنگلات کے درختوں کے بارے میں سوچنے لگے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا۔وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں نے (چھوٹا ہونے کے سبب بتانے سے) شرم محسوس کی، پھر صحابہ نے پوچھا، اے اللہ کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں بتائیے وہ کون سا درخت ہے؟تو فرمایا:"وہ کھجور کا درخت ہے۔"حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے اپنی شرم کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا، انھوں نے کہا، اگر تم یہ کہہ دیتے، یہ کھجور کا درخت ہے تو مجھے فلاں،فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہوتا۔" [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2811
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2811 ترقیم شاملہ: -- 7099
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: " أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ؟ "، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "،
ابوخلیل ضبعی نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے“۔ تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی (نہ کوئی) درخت بتانے لگے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میرے دل میں یا میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتاؤں، لیکن (وہاں) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہو کر بولنے سے رک گیا۔ جب وہ سب خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7099]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا،"مجھے اس درخت کا پتہ دو، جس کی تمثیل مومن کی سی ہے۔"تو لوگ جنگلات کے درختوں میں سے کسی درخت کا تذکرہ کرنے لگے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے نفس یا دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ یہ کھجور کا درخت ہے تو میں بتانے کا ارادہ کرنے لگا تو میں نے لوگوں کی عمریں دیکھ کر گفتگو کرنے سے ہیبت محسوس کی تو جب سب خاموش رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ کھجور کا درخت ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2811
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2811 ترقیم شاملہ: -- 7100
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا،
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا گیا۔ پھر ابوخلیل ضبعی اور عبداللہ بن دینار کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7100]
امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،"میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رفیق سفر بنا تو میں نے ان سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک حدیث سنی، انھوں نے بتایا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔چنانچہ آپ کے پاس کھجورکا گودا لایا گیا۔"آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2811
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2811 ترقیم شاملہ: -- 7101
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
سیف نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے مجاہد کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا گیا، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7101]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا گودا لایا گیا، آگے مذکورہ بالا روایت کے مطابق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2811
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2811 ترقیم شاملہ: -- 7102
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا؟ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَعَلَّ مُسْلِمًا، قَالَ: وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا، وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے فرمایا: ”مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا (فرمایا:) کی طرح ہے، اس کے پتے نہیں جھڑتے“۔ (امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد) ابراہیم بن سفیان نے کہا: غالباً (ہمارے شیخ) امام مسلم نے ”اور وہ (درخت) اپنا پھل دیتا ہے“ کہا ہوگا (لیکن میرے پاس ”نہیں دیتا“ لکھا ہے) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی (ان کے نسخوں میں) یہی پایا ہے: اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مگر میں نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ ناپسندیدگی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں، چنانچہ (میں نے یہ بات کہی تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے زیادہ پسند ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7102]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا:"مجھے اس درخت کا پتہ دو، جو مسلمان آدمی کے مشابہہ یا اس کی طرح ہے، اس کے پتے نہیں کرتے۔"امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،شاید امام مسلم نے آگے کہا اور وہ اپنا پھل دیتا ہے دوسروں کے ہاں بھی میں نے ایسے ہی پایا کہ وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے دل میں خیال آیا، یہ کھجور کا درخت ہے اور میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاموش دیکھا تو بولنا یا کچھ کہنا پسند نہ کیا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اگر تم بتا دیتے تو مجھے فلاں۔ فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہوتا۔" [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2811
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة