صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2849 ترقیم شاملہ: -- 7181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ " زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ " فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ " وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ، فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟، قَالَ: فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ سورة مريم آية 39 وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا "،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو اس طرح لایا جائے گا جیسے وہ سیاہ و سفید مینڈھا ہو“۔ ابوکریب نے مزید یہ کہا: چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کر دیا جائے گا۔ باقی ماندہ حدیث (کے الفاظ) میں دونوں متفق ہیں۔ تو (اعلان کرنے والا پکار کر) کہے گا: اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ جھانکیں گے، دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ فرمایا: پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ جھانکیں گے، دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ فرمایا: پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! (اب) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہے اور اے جہنم والو! (اب) دوام ہی دوام ہے، موت نہیں ہے“۔ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی: ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ (مريم: 39) ”ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے“۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7181]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، گویا کہ وہ سر می مینڈھا ہے، ابو کریب نے یہ اضاٖفہ کیا، چنانچہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائےگا۔ (باقی حدیث میں ابن ابی شیبہ اور ابو کریب متفق ہیں) تو کہا جائے گا، اے جنتیو! کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟چنانچہ وہ سراوپر اٹھائیں گے اور دیکھ کر کہیں گے،ہاں یہ موت ہے اور کہا جائے گا، اے دوزخیو!کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے۔ ہاں یہ موت ہے تو اس کے ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا۔اے اہل جنت!ہمیشگی ہے، موت نہیں آئے گی۔اور اے اہل دوزخ!ہمیشگی ہے موت نہیں ہے۔"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی،"انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیے، جب ہر کام کا فیصلہ کیا جائےگا، جبکہ اب یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے۔"(مریم آیت 39) اور اپنے،اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2849 ترقیم شاملہ: -- 7182
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا.
ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوصالح سے، اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔ تو کہا جائے گا: اے اہل جنت!“ اس کے بعد ابومعاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”یہی (اسی کے مطابق) ہے اس (اللہ) عزوجل کا فرمان“۔ اور انہوں نے نہیں کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی اور (اسی طرح) انہوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7182]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب اہل جنت کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور اہل دوزخ کو آگ میں کہا جائےگا، اے اہل جنت!"پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی ہاں اتنا فرق ہے کہ آپ نے فرمایا:"اللہ عزوجل کے اس قول میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔"یہ نہیں کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اور اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ کرنا بھی بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة