🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب نزول الفتن كمواقع القطر:
باب: فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2887 ترقیم شاملہ: -- 7250
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا؟، قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟، قَالَ: " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ، فَيَقْتُلُنِي، قَالَ: " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ "،
حماد بن زید نے کہا: ہمیں عثمان الشحام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے، وہ اپنی زمین میں تھے، ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا: کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے (اپنے والد) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے برپا ہوں گے، سن لو! پھر (اور) فتنے برپا ہوں گے، ان (کے دوران) میں بیٹھا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، یاد رکھو! جب وہ نازل ہو گا یا واقع ہوں گے تو جس کے (پاس) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ زمین میں چلا جائے۔ (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس نہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں، نہ زمین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی تلوار لے، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے (کند کر دے) اور پھر اگر بچ سکے تو بچ نکلے! اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ کہا: تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے مجبور کر دیا جائے اور لے جا کر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنائے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تم نے وار نہ کیا ہو) تو وہ اپنے اور تمھارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہو جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7250]
عثمان الشحام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے، وہ اپنی زمین میں تھے، ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا: کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے (اپنے والد) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے برپا ہوں گے، سن لو! پھر اور فتنے برپا ہوں گے، ان کے دوران میں بیٹھا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، یاد رکھو! جب وہ نازل ہوں گے یا واقع ہوں گے تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس نہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں اور نہ زمین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی تلوار کا رخ کرے اور اس کی دھار پتھر سے کوٹ دے، یعنی ہتھیار ضائع کر دے، تاکہ وہ لڑائی میں حصہ نہ لے سکے، پھر اگر بچ سکے تو بچ نکلے! اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ کہا: تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے مجبور کر دیا جائے اور لے جا کر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنا دے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہو جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2887
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2887 ترقیم شاملہ: -- 7251
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَى آخرة، وَانْتَهَى حَدِيثُ وَكِيعٍ عِنْدَ قَوْلِهِ: إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
وکیع اور ابن ابی عدی نے عثمان شحام سے اسی سند کے ساتھ ابن ابی عدی کی حدیث کو حماد کی حدیث کے مانند آخر تک بیان کیا، اور وکیع کی حدیث اس بات پر ختم ہو گئی: اگر وہ بچ سکے (تو بچ جائے۔) اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7251]
امام مذکورہ حدیث تین اساتذہ کی دو سندوں سے عثمان شحام کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، وکیع کی حدیث «إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ» اگر وہ بچ سکتا ہو تک ہے، اس میں بعد والا حصہ نہیں ہے اور ابن ابی عدی کی روایت آخر تک ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2887
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں