🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2932 ترقیم شاملہ: -- 7359
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ، فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ، فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا ".
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کوئی ایسی بات کہی جس نے اسے غصہ دلا دیا تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے (پوری) گلی کو بھر دیا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان کو یہ خبر مل چکی تھی، انہوں نے ان سے فرمایا، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! تم ابن صیاد سے کیا چاہتے تھے؟ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: دجال غصہ آنے کی وجہ سے ہی (اپنی حقیقی صورت میں) برآمد ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7359]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مدینہ کے کسی راستے میں ابن صیاد سے ملاقات ہوگئی تو انہوں نے اسے ایسی بات کہی جس سے وہ ناراض ہو گیا اور اس قدر پھول گیا حتیٰ کہ اس نے گلی کو بھر دیا، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور انہیں واقعہ پہنچ چکا تھا تو انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے! تم نے ابن صیاد کو کیوں چھیڑا؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ظہور کسی غصے کے آنے پر ہوگا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2932 ترقیم شاملہ: -- 7360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ نَافِعٌ، يَقُولُ: ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُكُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا، فَكَذَلِكَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ، قَالَ: فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ، قَالَ: فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَى، وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ، قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ هَذِهِ، قَالَ: فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ، سَمِعْتُ، قَالَ: فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ، وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ، قَالَ: وَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ: مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ، قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَى النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ ".
ابن عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، کہا: نافع کہا کرتے تھے کہ ابن صیاد۔ (اس کے بارے میں) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سے دوبارہ ملا ہوں۔ ایک بار ملا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! تم نے مجھے جھوٹا کیا۔ تم میں سے بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نہیں مرے گا، یہاں تک کہ تم سب میں زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہو گا، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا۔ کہتے ہیں کہ جب دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ یہ تیری آنکھ کب سے ایسی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولا کہ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا کہ آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں؟ وہ بولا کہ اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے۔ پھر ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں میں سے ایک سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو ڈنڈا تھا میں نے اسے اس کے ساتھ اتنا مارا کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا لیکن میں، واللہ! مجھے کچھ پتہ نہ چلا۔ نافع نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ام المؤمنین (حفصہ رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن صیاد سے تیرا کیا کام تھا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی، وہ اس کا غصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7360]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ابن صیاد کو دو دفعہ ملا ہوں۔ میں اسے ملا تو میں نے کسی سے کہا: کیا تم (اس کے ساتھی) یہ کہتے ہو کہ یہ وہی (دجال) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے کہا: تم مجھے جھوٹ بتاتے ہو، اللہ کی قسم! مجھے تم میں سے ہی بعض نے بتایا ہے کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا، یہاں تک کہ وہ تم سب سے زیادہ مال اور اولاد والا ہو جائے گا، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا۔ کہتے ہیں کہ جب میں اسے دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ میں نے کہا: یہ تیری آنکھ کب سے ایسی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں؟ وہ بولا: اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے۔ پھر اس نے ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے نکالتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں میں سے ایک سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو ڈنڈا تھا میں نے اسے اس کے ساتھ اتنا مارا کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا لیکن میں، واللہ! مجھے کچھ پتہ نہ چلا۔ نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا: ابن صیاد سے تمہارا کیا کام تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی، وہ اس کا غصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں