صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2966 ترقیم شاملہ: -- 7433
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ، وَهَذَا السَّمُرُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذًا "،
معمر، عبداللہ بن نمیر اور ابن بشر نے کہا: ہمیں اسماعیل بن قیس نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! میں عربوں میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس طرح جنگیں لڑتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کو خاردار درخت کے پتوں اور اس کیکر (کے پتوں) کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی بکری کی مینگنیوں کی طرح پاخانہ کرتا تھا، پھر اب بنو اسد کے لوگ دین کے معاملے میں میری تادیب کرنے لگے ہیں! (اگر اب میں دین سے اس قدر نابلد ہو گیا ہوں) تب تو میں بالکل ناکام ہو گیا اور میرے عمل ضائع ہو گئے۔ اور ابن نمیر نے اپنی روایت میں ”تب تو“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7433]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں عربوں میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس طرح جنگیں لڑتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کو خاردار درخت کے پتوں اور اس کیکر (کے پتوں) کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی بکری کی مینگنیوں کی طرح پاخانہ کرتا تھا، پھر اب بنو اسد کے لوگ دین کے معاملے میں میری تادیب کرنے لگے ہیں! (اگر اب میں دین سے اس قدر نابلد ہو گیا ہوں) تب تو میں بالکل ناکام ہو گیا اور میرے عمل ضائع ہو گئے، اور ابن نمیر کی روایت میں «خِبْتُ» ”میں ناکام ہو گیا“ کے بعد «إِذًا» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7433]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2966 ترقیم شاملہ: -- 7434
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الْعَنْزُ مَا يَخْلِطُهُ بِشَيْءٍ.
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: یہاں تک کہ ہم سے ایک بکرے کی (مینگنیوں کی) طرح کا پاخانہ کرتا تھا جس میں اور کچھ (کسی اور کھانے کا کوئی حصہ جو اسے پاخانہ کی شکل سے) ملا ہوا نہیں ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7434]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: حتیٰ کہ ہم میں سے کوئی پاخانہ کرتا تو بکری کی مینگنی کی طرح کرتا، جس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہوتی، یعنی جس طرح وہ خشک اور الگ الگ ہوتی ہیں، یہی کیفیت ہماری قضائے حاجت کی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7434]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة