صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7449
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ "،
یحییٰ بن یمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7449]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یقیناً ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض دفعہ مہینہ گزر جاتا اور ہم اپنے گھروں میں چولہا نہ جلاتے، بس صرف کھجوروں اور پانی پر گزارا ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7450
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ، وَلَمْ يَذْكُرْ آلَ مُحَمَّدٍ وَزَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ اور ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ہم لوگ اسی حالت میں رہتے تھے۔ اور انہوں نے ”آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم “ کا ذکر نہیں کیا۔ اور ابوکریب نے ابن نمیر سے مروی اپنی حدیث میں مزید کہا: الا یہ کہ ہمارے پاس (کہیں سے) تھوڑا سا گوشت آ جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7450]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں «إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ» ”ہم ٹھہرتے تھے“ ہے، درمیان میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہوا اور ابوکریب، ابن نمیر سے یہ اضافہ بیان کرتے ہیں: ”الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت ہمیں مل جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ " وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ، قَالَ: قُلْتُ يَا خَالَةُ: فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ؟، قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، فَكَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَاهُ ".
یزید بن رومان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آپ بتایا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! میرے بھانجے! ہم ایک دفعہ پہلی کا چاند دیکھتے، پھر (اگلے مہینے) پہلی کا چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین دفعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں چولہا نہ جلا ہوتا۔ (عروہ نے) کہا: میں نے پوچھا: خالہ! تو آپ کی گزران کے لیے کون سی چیز ہوتی؟ انہوں نے کہا: وہ کالی چیزیں، کھجور اور پانی، البتہ انصار میں سے کچھ (گھرانے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے اور انھیں دودھ دینے والی اونٹنیاں ملی ہوئی تھیں۔ وہ ان کے دودھ میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں پلا دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7452]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”اللہ کی قسم! میرے بھانجے! ہم ایک دفعہ پہلی کا چاند دیکھتے پھر (اگلے مہینے) پہلی کا چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین دفعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں چولہا نہ جلا ہوتا۔“ (عروہ نے) کہا: میں نے پوچھا: خالہ! تو آپ کی گزران کے لیے کون سی چیز ہوتی؟ انہوں نے کہا: ”وہ کالی چیزیں کھجور اور پانی، البتہ انصار میں سے کچھ (گھرانے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے اور انہیں دودھ دینے والی اونٹنیاں ملی ہوئی تھیں، وہ ان کے دودھ میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں پلا دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة